مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 317 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 317

317۔وہ شاید دو سو یا تین سو فٹ ہو گی جس کا ہال ہی اتنا بڑا تھا دا خلے کا ایک اندازہ کر سکتے ہیں، اتنی خوبصورتی کے ساتھ سجائی ہوئی ہے کہ انسان اس زندگی میں اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا، مختلف رنگ ہیں جو نکل رہے ہیں دیوار میں سے پھوٹ پھوٹ کر، نہ کوئی بلب ہے وہاں اور نہ کوئی ٹیوب ہے اور اس خوبصورتی میں میں محو ہو جاتا ہوں اتنی خوبصورتی ہے! میں تفصیل میں نہیں جاتا یعنی جب پہلی نظر اس پر پڑی ہے تو میں محو ہو گیا ہوں خوبصورتی میں، کچھ عرصہ کے بعد پھر میں نے اس کی تفصیل میں جانا شروع کیا تو پہلی چیز جو میرے سامنے نمایاں ہوئی یہ تھی کہ سامنے بالکل اس کی بلندی پر جو دوسری منزل کی چھت کے قریب ہے بہت خوبصورت پھول جو پہلے نظر آرہے تھے وہ ابھرے ہوئے تھے تو پہلے ہی لیکن توجہ نے انہیں اور اُبھار دیا اور میں نے دیکھا کہ وہاں پورے اس کی چوڑائی میں جو قریباً اتنی تھی جتنی یہ سامنے کی دیوار ہے۔اس کے اوپر لکھا ہوا ہے: الیسَ اللَّهُ بكَافٍ عَبدَہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے اور مختلف رنگ ہیں اس کے بیچ سے پھوٹ رہے ہیں۔اس کے بعد میں نے زیادہ غور کرنا شروع کیا خوبصورتی کی تعریف پر تو میں نے دیکھا (ویسے میں مختصر کر رہا ہوں کیونکہ دیر ہو گئی ہے بعض حصہ عام آپ کو بتا نے کے لئے تاکہ آپ کو دعا کی طرف زیادہ توجہ ہو) کہ وہ سارے خوبصورت پھول سے جو ہیں، وہ سارے شعر ہیں جن کو لکھا اس طرح گیا ہے۔سبز رنگ کی روشنی ان میں سے نکل رہی ہے کہ وہ پھول نظر آتے ہیں پہلی نظر میں لیکن ہیں وہ شعر۔جب میں نے غور کیا، مجھے کوئی شعر یاد نہیں رہا لیکن مجھے یہ یاد ہے کہ میں نے دو چار شعر پڑھے ہیں جب میں نے پڑھے تو مجھے یہ محسوس ہوا کہ یہ تو میرا سہرا ہے، شادی کے موقع پر جو سہرا کہا جاتا ہے، وہ ساری دیوار کے اوپر کئی سو شعر لکھا ہوا ہے اور سارا سہرا ہے اور میں دل میں حیران ہوتا ہوں اور اس کی تعبیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ غیر متوقع حالات میں خوشخبریوں کے سامان پیدا کرے گا، میں دل میں سوچتا ہوں کہ یہ عجیب لوگ ہیں انہوں نے مجھے بتایا ہی نہیں اور میرا یہ انتظام کر دیا ہے یہاں اور میرا سہرا بھی وہاں لکھ دیا ہے اور سارے پہ سجا دیا اور فنکشن کر دیا۔یہ کیا انہوں نے کیا ہے؟ یہ عجیب بات ہے کہ نہ کوئی مشورہ اور نہ کچھ اور یہ کیا ہو گیا ہے۔تو اس کے بعد میں نے اور غور کیا تو میں نے دیکھا کہ دائیں طرف کا برج اوپر سے نیچے تک نہایت خوبصورتی کے ساتھ سجا ہوا تھا اور جس کے ہر ابھار اور پھول کی شکل میں سے روشنی مختلف رنگوں کی نکل رہی تھی وہ سب کیلے کا ہے یعنی کیلے ہیں اس طرح ترتیب سے رکھے ہوئے کہ انہی سے الفاظ بنتے ہیں اور ان کے اندر سے ہی روشنی نکل رہی ہے۔کیلا اپنی تاثیر کے لحاظ سے بہت اچھا ہے اور درمیان میں ساری دیوار کے اوپر جو سجاوٹ ہے وہ خشک پھل کی ہے، بادام اور پستہ اور اس قسم کی دوسری جو چیزیں ہیں ان کے ہی سارے پھول بنائے گئے ہیں اور ان سے ہی وہ شعر لکھے گئے ہیں اور حروف بنائے گئے ہیں اور ہر ٹکڑا جو ہے یعنی ایک بادام جو ہے اس کے اندر سے روشنی نکل رہی ہے کسی میں سے سرخ کسی میں سے سبز، کسی میں سے کسی اور قسم کی مختلف روشنیاں ہیں اور وہ اندر سے پھوٹ پھوٹ کر جس طرح پانی بہ رہا ہوتا ہے چشمہ سے نکل کے اسی طرح روشنیاں نکل رہی ہیں ان سے۔پھر میں نے دیکھا تو دائیں طرف ایک کمرہ جو اکیلا ہی ہے اس حصہ کا اور اس بازو کا اس پر جب میری نظر پڑی یعنی مجھے خیال نہیں آتا خواب میں کہ اس وقت اُبھری ہیں لیکن میری نظر پڑی تو ہیں فٹ اونچائی اور بارہ پندرہ فٹ چوڑائی کی دیوار کے اوپر ایک عورت کی تصویر ہے اور جب میں نے اس کو غور سے دیکھا تو مجھے یہ نظر آیا کہ وہ عورت قیام میں ہے۔اس طرح اس نے ہاتھ باندھے ہوئے ہیں۔آنکھیں اس کی نیچی ہیں سجدہ گاہ کی طرف اور سر ڈھکا ہوا ہے تو میرے دیکھتے دیکھتے یعنی پہلے تو میں سمجھا تھا کہ تصویر ہے دیوار کے اوپر بن گئی لیکن میرے دیکھتے دیکھتے اس میں زندگی پیدا ہوئی اور اس کے ہونٹ ہلنے