مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 318 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 318

لگے اور ہے وہ کافی فاصلے پر مجھ سے ے کیونکہ میں اس کے مقابلہ پر کاؤچ کے اوپر بیٹھا ہو اہوں لیکن وہ بڑی نمایاں مجھے نظر آرہی ہے اور اس کے ہونٹ اس طرح ہل رہے ہیں جس طرح وہ سورۃ فاتحہ پڑھ رہی ہو اور پھر اس کے بعد میں نے دیکھا کہ دائیں طرف وہ مجھے لے گئے ہیں دکھانے کیلئے تو جو دائیں طرف کمرہ تھا جب میں وہاں پہنچا ہوں میں اور جو میرے ساتھی ہیں تو جو سب کا مالک اور ان کا کرتا دھرتا ہے اس نے مجھے کہا یہ دیکھیں دائیں طرف !!! اس نے ہاتھ سے اشارہ کیا جب میں نے اس طرف دیکھا تو وہاں پانچ آٹھ گز کی کارڈ بورڈ پر جس طرح کا رڈ پر آدمیوں کی شکلیں بنائی گئیں ہوں اس طرح پہلو بہ پہلو وہ کھڑی ہیں وہ پانچ شکلیں جن میں سے یا دو عورتیں تھیں یا تین لڑکیاں دو مرد یا دو لڑکیاں اور تین مرد اب مجھے یاد نہیں رہا اور جب میں نے یوں دیکھا تو ان کے اندر بھی زندگی پیدا ہوئی اور انہوں نے ہونٹ ہلانے شروع کئے لیکن میں یہ نہیں سمجھا کہ یہ ہونٹ قرآن کریم کی تلاوت یا خدا تعالیٰ کی حمد کر رہے ہیں لیکن ہونٹوں کو ہلتے ہوئے میں نے دیکھا اور کہنے والے نے اس وقت یہ کہا کہ یہ وہ ہمارے لوگ ہیں جو مر چکے ہیں تو میں نے اس کو جواب دیا جو تمہارے لوگ مر چکے ہیں مجھے ان سے کوئی دلچسپی نہیں اور یہ کہ کر کہ مجھے ان سے کوئی دلچسپی نہیں میں اپنی بائیں طرف گھوم گیا اور وہاں کچھ قرآن مجید رکھے ہوے تھے میں نے انہیں غور سے دیکھنا شروع کر دیا۔ویسے تو بڑی مبشر خواب ہے اس کے دو حصے یہ بھی ہیں کہ ان اقوام کا ایک حصہ اسلام کی طرف مائل ہو جائے گا اور کچھ حصہ جو ہیں انہوں نے اپنے لئے ہلاکت اور موت کو اختیار کرنا ہے۔ہمیں جس چیز میں دلچسپی ہے وہ یہ ہے کہ جتنوں کو ہم موت اور ہلاکت سے بچا سکیں ہم انہیں بچا لیں۔“ دو (خطبات ناصر جلد 1 - صفحہ 782 تا 784) مُبَارَكٌ وَ مُبَارَكٌ وَكُلُّ اَمْرٍ مُبَارَكٌ يَجْعَلُ فِيْهِ: حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جس وقت ہم یورپ گئے اس وقت ہمارا یہ راستہ تھا۔پہلے فرینکفورٹ پھر زیورک پھر ہیگ پھر ہیمبرگ۔پھر کوپن ہیگن اور پھر لنڈن اور گلاسگو۔زیورک میں ایک دن صبح میری آنکھ کھلی تو میری زبان پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کا یہ الہام تھا : مُبَارَكٌ وَ مُبَارَكٌ وَكُلُّ اَمْرِ مُبَارَكٌ يَجْعَلُ فِيهِ۔(تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ 83) یہ الہام اخبار الفضل میں بھی چھپ چکا ہے۔اس سے دوسرے دن تین بجے کے قریب میری آنکھ کھلی اور میری زبان پر قرآن کریم کی ایک آیت تھی اور ساتھ ہی مجھے اس کی ایک ایسی تعبیر بتائی گئی جو بظاہر انسان ان الفاظ سے نہیں نکال سکتا اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ تعبیر مجھے اللہ تعالیٰ نے ہی سکھلائی تھی۔میں خوش بھی ہوا لیکن مجھے حیرت بھی ہوئی کہ بعض دفعہ کیا کیا تعبیریں نکل آتیں ہیں۔اگر میرے ذہن پر چھوڑا جاتا یا آپ میں سے کو کی ماہر تعبیر بنانے والا بھی ہوتا تو اس کی وہ تعبیر نہ کرتا جو اس وقت میرے ذہن میں آئی اور ابھی اس خواب کو دیکھے چار پانچ گھنٹے ہی ہوئے تھے کہ وہ پوری ہو گئی چونکہ طبیعت پر اثر تھا یہ خواب جلد پوری ہونے والی اس لئے جس وقت منصورہ بیگم کی آنکھ کھلی میں نے انہیں بتا دیا کہ میری زبان پر یہ آیت جاری ہوئی ہے اور مجھے اس کی یہ تعبیر بتائی گئی ہے اس کو یاد رکھ لو۔پھر چار پانچ گھنٹوں کے بعد ہمیں پتہ لگ گیا کہ اس تعبیر کے لحاظ سے وہ خواب پوری ہو گئی جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ مجھے دلی اطمینان کے لئے اللہ تعالیٰ نے دوسرے ہی روز ایک ایسی بات بتا دی جو چند گھنٹوں میں پوری ہونے والی تھی اور شاید اس وقت ہے 318