مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 305 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 305

”جب میں بہت بیمار ہو گیا تھا۔تو ان ایام میں ہمارے ڈاکٹروں نے میری بڑی خدمت کی، ڈاکٹر الہی بخش صاحب رات کو بھی دباتے رہتے۔انہوں نے بہت ہی خدمت کی۔میرا رونگٹا رونگٹا ان کا احسان مند ہے مگر ان کو میرے بچنے کی امید نہ تھی ایسے وقت میں خدا تعالیٰ نے ایک بیٹے کی بشارت دی جو اب پوری ہوئی۔فالحمد الله (حیات نور صفحہ 686) ولی کی رضا مندی کے بغیر ایک بیوہ کے ساتھ نکاح کے بعد خواب: حضرت خلیفة اصبح الاول رضی اللہ عنہ کو ایک بیوہ کا پتہ لگا جسے حضرت خلیفہ مسیح الاول رضی اللہ عنہ مختلف اسباب سے پسند کرتے تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الاول رضی اللہ عنہ نے اس کے یہاں نکاح کی تحریک کی وہ عورت تو راضی ہو گئی مگر چونکہ ملک کے لوگ بیوگان کے نکاح کو نا پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے تھے اس لئے اس عورت نے کہا کہ آپ نکاح کر لیں کچھ دنوں کے بعد میرے ولی بھی راضی ہو جائیں گے۔حضرت خلیفة اصبح الاول رضی اللہ عنہ نے ان ولیوں کو اس خیال سے معزول سمجھا کہ وہ شریعت کے خلاف بیوہ کے نکاح کو روم کتے ہیں اور نکاح کی جرات کر لی۔ابھی وہ عورت حضرت خلیفہ اسیح الاول رضی اللہ عنہ کے گھر میں نہیں آئی تھی کہ حضرت خلیفہ اسیح الاول رضی اللہ عنہ نے خواب میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ زرد ہے، زمین پر لیٹے ہیں اور داڑھی منڈی ہوئی ہے۔حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حالت میں دیکھ کر حضرت خلیفہ امسیح الاول رضی اللہ عنہ ہوشیار ہو گئے اور سمجھ گئے کہ یہ نکاح سنت کے خلاف واقع ہوا ہے۔اس پر حضرت خلیفۃ اسیح الاول رضی اللہ عنہ نے ایک خط میاں نذیر حسین دہلوی اور ایک خط شیخ محمد حسین بٹالوی کو لکھا جس میں ان سے دریافت کیا کہ اگر الغ ہو مگر ولی نکاح میں روک بنے تو پھر کیا فتویٰ ہے؟ ان دونوں میں سے ایک کا جواب آیا کہ ایسے ولی معزول ہو جاتے ہیں اور بیوہ اپنے اختیار سے نکاح کر سکتی ہے کیونکہ حدیث لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ میں کلام ہے۔بیوه خدائی انتباہ: یہ جواب حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کے منشا کے عین مطابق تھا اس لئے آپ رضی اللہ عنہ اُٹھے کہ اس عورت کو گھر لے آویں مگر ابھی بیٹھک کے پھاٹک ہی پر پہنچے تھے کہ ایک شخص ایک حدیث کی کتاب لایا اور الْإِثْمُ مَـا حَــاكَ فِي صَدْرِكَ وَلَوْ اَفْتَاكَ الْمَفْتُونُ کی حدیث دکھا کر کہا کہ مجھے اس کا مطلب سمجھا دیجئے۔حضرت خلیفۃ اسی الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: اس (حدیث) کو دیکھتے ہی میرا بدن بالکل سن ہو گیا اور میں نے کہا کہ تم لیجاؤ پھر بتادیں گے۔“ حضرت خلیفة اصیح الاول رضی اللہ عنہ نے سمجھا کہ یہ خدائی انتباہ ہے جو آپ رضی اللہ عنہ کو مفتی کے فتوے کے بعد ہوا ہے۔اس کے بعد جب حضرت خلیفہ امسیح الاول رضی اللہ عنہ اس مسئلہ پر غور کرنے لگے تو آپ رضی اللہ عنہ پر نوم غیر طبعی طاری ہوگئی۔خواب میں دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں، پچیس سال کے قریب عمر معلوم ہوتی ہے، بائیں جانب سے آپ کی داڑھی شخصی ہے اور دانی جانب بال بہت بڑے ہیں۔حضرت خلیفۃ امسیح الاول رضی اللہ عنہ سمجھے کہ اگر بال دونوں طرف کے برابر ہوتے تو بہت خوبصورت ہوتے۔پھر معاً حضرت خلیفۃ اصیح الاول رضی اللہ عنہ کے دل میں خیال آیا کہ چونکہ اس حدیث کے متعلق آپ کو تامل ہے اس لیے یہ فرق ہے۔تب حضرت خلیفہ اُسیح الاول رضی اللہ عنہ نے اسی وقت دل میں کہا کہ اگر سارا جہان بھی اس حدیث کو ضعیف سمجھے تو بھی میں اس کو صحیح سمجھوں گا۔یہ خیال کرتے ہی حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ نے دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی دونوں طرف سے برابر ہوگئی اور حضور ہنس پڑے اور حضرت خلیفۃ اسیح الاول عنہ 305