مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 12 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 12

تعالٰی کو سمجھایا اس کا نام حضرت خلیفتہ المسح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شریک حیات حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ کے نام پر نصرت جہاں آگے بڑھو منصوبہ“ رکھا۔نصرت جہاں سکیم اور معاندین کا ردعمل: حیات ناصر جلد 1 صفحہ 527 تا540) نصرت جہاں سیکم کے ذریعے افریقہ میں ہونے والے غیر معمولی انقلاب کو احمدیت کے معاندین نے حسد اور غیظ و غضب کی نگاہ سے دیکھا اور افریقہ میں بھی اور پاکستان میں بھی اپنا مخالفانہ رد عمل ظاہر کیا۔پاکستان میں جو ردعمل ہوا اس کی طرف سے اشارہ کرتے ہوئے حضرت خلیفہ اُسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”ہماری اس سکیم کا اس وقت تک جو مخالفانہ رد عمل ہوا ہے وہ بہت دلچسپ ہے اور آپ سن کر خوش ہوں گے۔اس وقت تک میری ایک Source سے یہ رپورٹ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہ جماعت اسلامی کی مجلس عاملہ نے یہ ریزولیوشن پاس کیا ہے کہ ویسٹ افریقہ میں احمدیت اتنی مضبوط ہو چکی ہے کہ وہاں ہم ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے اس واسطے پاکستان میں ان کو کچل دو تا کہ وہاں کی سرگرمیوں پر اس کا اثر پڑے اور جماعت کمزور ہو جائے۔بالفاظ دیگر جو ہمارا حملہ وہاں عیسائیت اور شرک کے خلاف ہے اسے کمزور کرنے کے لئے لوگ یہاں سکیم سوچ رہے ہیں۔ویسے وہ تلوار اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے کسی مخالف کو نہیں دی جو جماعت کی گردن کو کاٹ سکے البتہ افراد کو بڑی سے بڑی قربانی دینی پڑتی ہے۔“ افریقہ میں اس سکیم کو ناکام کرنے کے لئے بھی مخالفین نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا لیکن اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت ہمیشہ جماعت کے شامل حال رہی۔66 مصیبت زدگان کے لئے تحریکات : تحریک حضرت خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ عنہ : مصیبت زدگان کی مرکزی امداد: حیات ناصر جلد 1 صفحہ 544) حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے 2 فروری 1934 ء کے خطبہ جمعہ میں جماعت احمدیہ کو ہدایت فرمائی کہ وہ زلزلہ کے مصیبت زدگان کی بلا امتیاز مذہب و ملت امداد کریں۔مرکز کی طرف سے مولانا غلام احمد صاحب فاضل بدوملہی اظہار ہمدردی اور تفصیلات مہیا کرنے کے لئے بہار بھجوائے گئے اور مئی 1934ء میں تیرہ سو روپیہ کی رقم حضرت مولانا عبدالماجد صاحب رضی اللہ عنہ امیر جماعت احمدیہ بھاگلپور کو روانہ کی گئی۔علاوہ ازیں ایک ہزار روپیہ ریلیف فنڈ میں دیا گیا۔تاریخ احمدیت جلد 7 صفحہ 185) 12