مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 13
تحریک حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالی: 1) افغان مہاجرین کیلئے طبی سہولت : روس کے افغانستان پر حملے کے نتیجے میں افغان مہاجرین کثرت سے اپنا ملک چھوڑ کر پاکستان میں پناہ گزین ہو گئے۔حضرت خلیفۃ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے ان مظلومین کی طبی سہولت کے لئے مہاجرین کے کیمپوں میں جماعت کی طرف سے ڈسپنسری کا انتظام کروایا اور انتہائی مخالفانہ حالات کے باوجود خدمت خلق کے جذبہ کے تحت افغان مہاجرین کی خدمت کی توفیق پائی۔اللہ تعالیٰ کی عجیب شان ہے کہ انتہائی مزاحمت اور رکاوٹوں کے باوجود افغان مہاجرین علاج کیلئے باقی سہولتوں کو چھوڑ کر اکثر احمدی ڈسپنسری کا ہی رخ کرتے رہے۔اس اہم کام کی ذمہ داری حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے صوبہ سرحد کے ایک مخلص دوست رشید جان صاحب کے سپرد فرمائی جو اپنی رپورٹ وقفہ وقفہ کے بعد صاحبزادہ حضرت مرزا طاہر احمد صاحب کو بھجواتے رہے اور حضرت صاحبزادہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کو مکمل حالات سے آگاہ فرماتے رہتے اور ہدایات لے کر محترم رشید احمد جان صاحب کمر پہنچاتے رہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے 1981 ء کے جلسہ سالانہ پر افغان مہاجرین کے لئے خصوصی دعاؤں کی بھی تحریک فرمائی اور اعلان کرتے وقت اس جانب رخ فرمایا جہاں سٹیج پر غیر ملکی افراد کے احاطہ میں کرسیوں پر جناب رشید جان صاحب اور افغان مہاجرین کے ایک لیڈر تشریف فرما تھے۔(2) جنگی قیدیوں کے لئے صدریاں اور رضائیاں: حیات ناصر - صفحہ 645 و 646) 1971ء میں پاکستان و ہندوستان کی جنگ کے نتیجہ میں جماعت احمدیہ اپنا سالانہ جلسہ جو دسمبر میں ہوا کرتا ہے منعقد نہ کر سکی لیکن احمدی خواتین دوران جنگ اور جنگ کے بعد ہر جگہ دفاعی اور رفاہی کاموں میں مصروف رہیں۔پاکستان جس بحران میں سے گزرا، انتہائی ضرورت تھی کہ پاکستان کا ہر شہری اور پاکستان کی ہر تنظیم ان مجاہدین کی خدمت دامے درمے، قلعے کرتی جو وطن کی حفاظت کر رہے تھے۔چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے لجنہ اماء اللہ ربوہ کو افواج پاکستان کے لئے روئی کی صدریاں تیار کرنے کا ارشاد فرمایا: 31 جنوری (1972ء) کو صدریاں بنانے کا کام شروع کیا گیا۔اس کام کی نگران اعلیٰ صدر لجنہ اماء اللہ ربوہ محترمہ صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہ تھیں جن کی سرکردگی میں ربوہ کے ہر محلہ کی ہراس عورت نے جو کچھ نہ کچھ کام کر سکتی تھی اس خدمت میں حصہ لیا۔پچیس دن کے عرصہ میں چھ ہزار دو صد بیس(6220) صدر یاں تیار کر دی گئیں پھر بعد میں اور کپڑا ملنے پر مزید صدریاں تیار کی گئیں۔جن کی کل تعداد 8751 بنتی ہے۔3) سیلاب زدگان کی امداد: 66 (حیات ناصر۔صفحہ 646) مشرقی پاکستان کثرت کے ساتھ سیلابوں کی زد میں آتا رہا ہے۔متعدد مواقع پر حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالٰی نے سیلاب زدگان کی امدا کیلئے معقول رقم جماعتی بیت المال سے بھجوائی اور اسی طرح مغربی پاکستان میں سیلاب کے دوران احمدی 13