مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 93
صورت میں جمع ہونا تھا چنانچہ اس سلسلہ میں بخاری میں بروایت زید رضی اللہ عنہ بن ثابت بیان کیا گیا ہے کہ جنگ مسیلمہ کذاب کے بعد ایک روز حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مجھے (یعنی زید بن ثابت کو) یاد فرمایا۔میں جس وقت میں آپ کی خدمت میں پہنچا تو وہاں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی تشریف فرما تھے۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا کہ (حضرت) عمر رضی اللہ عنہ مجھ سے کہتے ہیں کہ ” جنگ یمامہ میں بہت ، مسلمان شہید ہو گئے ہیں، مجھے خوف ہے کہ اگر اسی طرح مسلمان شہید ہوتے رہے تو حافظوں کے ساتھ ساتھ قرآن شریف بھی نہ اٹھ جائے (کیونکہ وہ اب تک لوگوں کے سینوں میں محفوظ ہے) لہذا میں مناسب سمجھتا ہوں کہ قرآن شریف کو بھی جمع کر لیا جائے۔“ میں نے ان سے یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا تھا کہ بھلا میں اس کام کو کس طرح کر سکتا ہوں جسے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات طیبہ میں نہیں کیا؟ تو اس پر انہوں نے یہ جواب دیا ہے کہ واللہ ! یہ نیک کام ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہے اس وقت سے اب تک ان کا اصرار جاری ہے یہاں تک کہ اس معاملہ میں مجھے شرح صدر (القا) ہوا اور میں سمجھ گیا کہ اس کی بڑی اہمیت ہے۔حضرت زید رضی اللہ عنہ بن ثابت کہتے ہیں کہ یہ تمام باتیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ خاموشی سے سن رہے تھے ، پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھ سے مخاطب ہوکر فرمایا اے زید! تم جوان اور دانشمند آدمی ہو اور تم کسی بات میں اب تک بھی نہیں ہوئے ہو ( تم ثقہ ہو ) علاوہ ازیں تم کاتب وحی (رسول اللہ) بھی رہ چکے ہو۔لہذا تم تلاش جستجو سے قرآن شریف کو ایک جگہ جمع کر دو۔حضرت زید رضی اللہ عنہ حضرت زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہ بہت ہی عظیم کام تھا، مجھ پر بہت ہی شاق تھا، اگر خلیفہ رسول مجھے پہاڑ اُٹھانے کا حکم دیتے تو میں اس کو بھی اس کام سے ہلکا سمجھتا۔لہذا میں نے عرض کیا کہ آپ دونوں حضرات (حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما) وہ کام کس طرح کریں گے جو حضرت رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا؟ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے میرا یہ جواب سن کر یہی فرمایا: اس میں کچھ حرج نہیں ہے۔زید کہتے ہیں مگر مجھے پھر بھی تأمل رہا ( میں خود کو عظیم کام کے انجام دینے کا اہل نہیں سمجھتا ہوں) اور میں نے اس پر اصرار کیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میرا سینہ بھی کھول دیا (شرح صدر فرمایا) اور اس امر عظیم کی اہمیت مجھ پر بھی واضح ہو گئی۔پھر میں نے تفحص اور تلاش کا کام جاری کیا اور کاغذ کے پرزوں، اونٹ اور بکریوں کی شانوں کی ہڈیوں اور درختوں کے پتوں کو جن پر آیات قرآنی تحریر تھیں یکجا کیا اور پھر لوگوں کے حفظ کی مدد سے قرآن شریف کو جمع کیا سورۃ توبہ کی دو آیین: لَقَدْ جَاءَ كُمْ رَسُولٌ مِّنْ اَنفُسِكُم۔۔۔۔۔۔الخ مجھے حزیمہ رضی اللہ عنہ بن ثابت کے سوا کہیں اور سے نہیں مل سکیں اس طرح میں نے قرآن پاک جمع کر کے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کر دیا جو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات تک ان کے پاس رہا۔“ و تاريخ الخلفاء - صفحہ 213 و 214) (2) حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں اشاعت اسلام: مولانا شبلی نعمانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بارے میں لکھتے ہیں: اشاعت اسلام کے یہ معنی ہیں کہ تمام دنیا کو اسلام کی دعوت دی جائے اور لوگوں کو اسلام کے اصول اور مسائل سمجھا کر اسلام کی طرف راغب کیا جائے۔93