مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 92
خلافت راشدہ حقہ اسلامیہ کا ہر دو طرح سے استحکام: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد خلافت راشدہ حقہ اسلامیہ نے کس طرح استحکام پکڑا اور اللہ تعالیٰ نے قدم قدم پر ثابت کر دیا کہ خلافت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی ہے اور خلافت کی مضبوطی کو کوئی توڑ نہیں سکتا اور وقتی طوفان اور مصائب اسلام اور خلافت راشدہ کی راہ میں روک نہیں بن سکتے۔چنانچہ خلافت راشدہ اولیٰ اور ثانیہ ہر دو ادوار میں اللہ تعالیٰ نے یہ ثابت فرما دیا کہ یہی خلافت حقہ اسلامیہ ہے۔آئیے تاریخ کے آئینہ میں دیکھتے ہیں کہ اسلام کی اشاعت اور دشمنان دین کا انجام خلافت کی سچائی پر کس طرح مہر تصدیق ثبت کرتا ہے اور روز روشن کی طرح یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں خلافت کے ذریعے دین کو استحکام عطا فرمایا اور اسی طرح نظام خلافت استحکام پذیر ہوا۔سب سے پہلے ہم ترتیب وار اشاعت اسلام کا جائزہ لیتے ہیں: (1 اشاعت اسلام اور استحکام خلافت: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں اشاعت اسلام: سیر الصحابہ رضی اللہ عنہم میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں لکھا ہے کہ: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا خلفائے راشدین کے عہد میں جس قدر لڑائیاں پیش آئیں وہ سب للہیت پر اور اعلائے کلمۃ اللہ پر مبنی تھیں اس لیے ہمیشہ کوشش کی گئی کہ اس مقصد عظیم کے لئے جو فوج تیار ہو وہ اخلاق و رفعت میں تمام دنیا کی فوجوں سے ممتاز ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے بھی فوجی تربیت میں اس نکتہ کو ہمیشہ ملحوظ رکھا اور جب کبھی فوج کسی مہم پر روانہ ہوتی تو خود دُور تک پیادہ ساتھ گئے اور امیر عسکر کو زریں نصائح کے بعد رخصت فرمایا۔چنانچہ ملک شام پر فوج کشی ہوئی تو سپہ سالار سے فرمایا:۔إِنَّكَ تَجِدُ قَوْمًا زَعَمُوا أَنَّهُمْ جَلَسُوا أَنْفُسَهُمْ لِلَّهِ فَذَرْهُمْ وَإِنِّي مُوْصِيكَ لَا تَقَتُلُوا امْرَأَةً وَلَا صَبِيًّا وَلَا كَبِيرَ هر مَا وَلَا تَقَتَطعن شَجَرًامُثْمَرًا وَلَا تَخْرَبْنَ عَامِرًا وَلَا تَعْقَرْنَ شَأْةٌ وَلَا بَعِيرًا لَا لَا كُلِهِ وَلَا تَحْرَقْنَ نَخْلًا وَلَا تَعْلُلْنَ وَلَا تَجْبُنَنَ تم ایک ایسی قوم کو پاؤ گے جنہوں نے اپنے آپ کو خدا کی عبادت کے لئے وقف کر دیا ہے ان کو چھوڑ دینا میں تم کو دس وصیتیں کر تا ہوں، کسی عورت، بچے اور بوڑھے کو قتل نہ کرنا، پھلدار درخت کو نہ کاٹنا، کسی آباد جگہ کو ویران نہ کرنا، بکری اور اونٹ کو کھانے کے سوا بیکار ذبح نہ کرنا، نخلستان نہ جلانا، مال غنیمت میں غبن نہ کرنا اور نہ بزدل نہ ہو جانا۔“ (سیر الصحابہ جلد 1 صفحہ 66) تاریخ الخلفا میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں لکھا ہے کہ: اسلام کی اشاعت میں بہت بڑا کام حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں قرآن کریم کا تحریری 22 92