مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 86
وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمُ ايَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَب وَالْحِكْمَةَ وَ يُزَكِّيهِمْ اس میں تزکیہ کو سب سے آخر پر رکھا تھا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام جیسا صاحب علم و رشد نبی بہت کم دیکھنے میں آتا ہے۔آپ کو نبوت میں بہت عظیم مقام حاصل ہے۔دعا کرتے وقت جو ترتیب انسانی ذہن نے بلکہ اس انسانی ذہن نے قائم کی جو وحی سے صیقل کیا گیا تھا اور بہت اعلیٰ درجے پر پہنچ چکا تھا اس انسانی ذہن نے جو ترتیب سوچی وہ خدا کے نزدیک صحیح نہیں تھی۔چنانچہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور اس کے مقام کو ظاہر کرنے کیلئے خدا نے یہ ترتیب بدل دی۔فرمایا: هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّنَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمُ الله وَيُزَكِّيهِمْ وَيُـ وَيُعَلِّمُهُمُ الكتب وَالْحِكْمَةَ (سورة الجمعه ) یہ علم و حکمت کے بعد تزکیہ نہیں کرتا اس کا مقام اس سے بلند تر ہے جو مانگا گیا تھا۔اس میں ایسی عظیم قوت قدسیہ ہے کہ یہ اس بات کا محتاج نہیں ہے کہ علم و حکمت سکھائے تب جا کر تزکیہ کرے۔یہ اپنی ذات سے اور اپنے نمونے سے پہلے تزکیہ کر دیتا ہے اور تزکیہ کرنے کے بعد علم و حکمت سکھاتا ہے۔اس میں اور بھی بڑے لطیف معنی ہیں جو پہلے بھی بیان ہو چکے ہیں اور آئندہ بھی بیان ہوتے رہیں گے۔اور یہی لگتا ہے۔ره ہے اس وقت میں صرف یہ مثال دے رہا ہوں کہ انسانی سوچ جو ترتیب ذہن میں لاتی ہے اور انسان جس طرح سوچتا ہے اور انسانوں میں سے جو بہترین سوچنے والے ہیں ان کی ترتیب میں بھی کوئی نہ کوئی کمزوری ہے اور کلام الہی اس کو درست کرتا ہے۔چنانچہ آیت استخلاف میں بھی یہی دیکھنے میں آتا ہے اگر انسان کا کلام ہوتا تو یہ کہتا کہ پہلے وہ تمہارے خوف کو امن میں بدل دے گا۔ایک خلافت کے بعد خوف کا مقام ہوتا ہے ہے کہ یہاں پہلے یہ ذکر ہونا چاہیے کہ خوف کو امن میں بدل دے گا اور تمکنت میں تو خوف ہی نہیں کیونکہ تمکنت نام ہے اس مقام کا جو بے خوفی پیدا کرتی ہے تو بعد میں کس خوف کا ذکر اصل بات یہ ہے کہ اگر آپ دوبارہ اس آیت کو ذہن نشین کر کے جو میں مضمون بیان کرتا ہوں اس کے ساتھ چلیں تو آپ کو سمجھ آ جائے گی کہ اس میں کیا حکمت ہے۔خلافت کے نتیجہ میں لا متناہی ترقیات نصیب ہوتی ہیں۔ترقی کی کوئی ایک منزل نصیب نہیں ہوتی۔اور ترقی کی ہر منزل کے حصول کے نتیجہ میں خوف پیدا ہوتے ہیں جو دشمن کی تکلیف کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ان کے حسد کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اور یہ وہ خوف ہے جو تمکنت سے پہلے پیدا نہیں ہوا کرتا۔یہ ہر تمکنت کے بعد پیدا ہوتا ہے۔وہ جماعت جو ترقی نہیں کر رہی اور جو نشو و نما نہیں پا رہی اس کے اندر بھی ایک بے خوفی پید اہو جاتی ہے اور بے خوفی کے نتیجہ میں پھر اس کو کوئی خوف نہیں آتا وہ اپنی ذات میں سکڑی رہتی ہے۔مسلمانوں کے اندر بھی ایسی بہت سی جماعتیں ہیں جن کے ساتھ مسلمانوں کو اس سے بہت زیادہ اختلافات ہیں جو ہمارے بعض عقائد سے وہ رکھتے ہیں لیکن ان سے خوف کوئی نہیں رکھتے۔کیونکہ ان کو جو امن نصیب ہے وہ نشو و نما نہ پانے کا امن ہے۔وہ زندگی کے فقدان کا امن ہے۔وہ چار دیواری میں قلعہ بند ہونے کا امن ہے۔لیکن خدا تعالیٰ اس جماعت سے یہ توقع نہیں رکھتا جو خلافت سے وابستہ ہو یا جس کو خلیفہ بنایا گیا ہو۔اس کو اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ تم ایسے کام کرو 86