مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 84
اور پھر فرمایا: مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمَنَا وْفِهِمْ أَمَنَا يَعْبُدُون يُشْرِكُونَ بِي شِـ شِيْئًا وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولئِكَ هُمُ الْفَسِقُونَ۔(سورة النور : 56) سورہ نور کی یہ آیت جو آیت استخلاف کے نام سے معروف ہے۔یہ جماعت احمدیہ کے سامنے بار بار پڑھی جاتی ہے۔اس کا جماعت احمدیہ کی زندگی اور مستقبل کے ساتھ چونکہ ایک بہت ہی گہرا تعلق ہے اس لئے اس کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے اسے بار بار جماعت کے سامنے پیش کرتے رہنا چاہئے۔آج میں اس کے جس پہلو کے متعلق خصوصیت کے ساتھ کچھ کہنا چاہتا ہوں اُس کے متعلق حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے بھی ایک موقع پر توجہ دلائی تھی اور وہ یہ ہے کہ اس آیت میں ساری جماعت ہی خلیفۃ اللہ بن جاتی ہے اور ہر وہ شخص جو خلافت پر ایمان رکھتا ہے اور عمل صالح کرتا ہے یہ آیت اس کو بتاتی ہے کہ تم راس دنیا میں اللہ کے خلیفہ ہو اور من حیث الجماعت یہ خلافت مرتکز ہو جاتی ہے ایک ذات میں جس کو ہم خلیفہ اسیح کہتے ہیں۔پس اس آیت میں انتشار بھی ہے اور ارتکاز بھی ہے یعنی پہلے یہ مضمون ساری جماعت پر پھیل جاتا ہے اور ہر فرد جماعت جو ان شرائط کو پورا کرتا ہے وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا خلیفہ ہے اس نقطہ نگاہ سے کہ وہ خدا کے پروگرام کو جو اس دنیا میں جاری کرنا چاہتا ہے اس کو جاری کرنے کیلئے ذمہ داری میں پوری طرح شریک ہے اس لحاظ سے وہ خلیفہ ہے کیونکہ وہ دنیا کے سامنے خدا تعالیٰ کے نمائندہ کے طور پر پیش ہو رہا ہے بڑی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔وہ دنیا کو ایسا نمونہ دکھائے کہ جس کے نتیجہ میں دنیا یہ سمجھے کہ جس ذات نے اس کو خلیفہ بنایا ہے وہ ذات بہت بڑی خوبیوں کا مجموعہ ہو گی۔یہ نمونہ جو ایک بہت ہی معمولی حیثیت رکھتا ہے اگر اُس کی خوبیوں کا یہ حال ہے تو جس کا یہ نمائندہ ہے اس کے حسن کا تو کوئی اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔پس خدا تعالیٰ کے نمائندہ کی حیثیت سے جماعت کے ہر فرد پر خلافت کی ایک ذمہ داری عاید ہوتی ہے اور اگر جماعت اس ذمہ داری کو ادا کرے تو تمام افراد کی یہ خلافت اجتماعی شکل میں ایک ذات میں مرتکز ہو کر ایک عظیم الشان طاقت بن جاتی ہے۔جس کا دنیا تصور بھی نہیں کر سکتی۔ہر شخص اس آیت کے پیش نظر اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے اور خدا تعالیٰ کا نمائندہ بننے کی اس دنیا میں کوشش کرے تو اس کے نتیجہ میں تقویٰ کا جو قطرہ قطرہ اکٹھا ہو کر اجتماعی شکل میں خلافت کی صورت میں دنیا کے سامنے آئے گا وہ ایک عظیم الشان طاقت ہے اور اس کی طرف ہمیں خصوصیت کے ساتھ توجہ کرنی چاہیے۔اور اس یہ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِى الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ میں سارے صیغے جمع کے استعمال ہوئے ہیں اور جمع کے صیغہ میں یہی حکمت ہے کہ ایک خلیفہ ہو تب بھی وہ اکیلا خدا کا نمائندہ نہیں ہے۔ساری قوم خدا کی نمائندہ خواہ مرکزی حیثیت سے اس نمائندگی کو ادا کرنے کے لئے ایک ذات میں وہ نمائندگی مجتمع ہو جائے۔امر واقعہ یہی ہے کہ اس امر کو ملحوظ رکھتے ہوئے مختلف اوقات میں مختلف خلفاء نے مختلف رنگ میں اس بات کو ظاہر کیا۔چنانچہ حضرت خلیفہ اسی الاول رضی اللہ عنہ کا فقرہ تھا کہ تم سب کو خدا تعالیٰ نے نمائندہ بنایا اور پھر 84