مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 83 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 83

83 83 بھگائے مبارک اور انبیاء کی طرح مؤید سمجھا کرتے تھے اور یہ سب کچھ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی سچائی اور گہرے یقین پر قائم ہونے کے سبب سے تھا۔بخدا ! وہ اسلام کے آدم ثانی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے انوار کے لیے مظہر اول تھے۔گو وہ نبی نہیں تھے لیکن ان میں انبیاء کے قومی پائے جاتے تھے اور آپ رضی اللہ عنہ کے صدق کی بدولت اسلام کا باغ اپنی کامل ترو تازگی کو پہنچا اور اس نے اپنی زینت اور سکینت تیروں کے صدمات سہنے کے بعد حاصل کی اور اس کے اندر رنگا رنگ کے پھول پیدا ہوئے اور اس کی شاخیں غبار سے صاف ہو گئیں اور اس سے پہلے اسلام ایک ایسے مردہ کی طرح تھا جس پر ماتم کیا جا چکا ہو اور قحط ہوئے اور مصائب سے زخمی اور سفروں سے درماندہ اور قسم قسم کی تھکان سے دُکھ دیئے ہوئے اور شعلوں والی دو پہر کے جلے بھنے ہوئے شخص کی مانند تھا پھر اللہ تعالیٰ نے اسے ان تمام مصائب سے نجات دی اور تمام آفات سے چھڑایا اور عجیب تائیدات سے اس کی مدد کی یہاں تک کہ اس نے بادشاہوں کی قیادت کی اور لوگوں کی گردنیں اس کے ہاتھ میں آگئیں۔بعد اس کے کہ وہ درماندہ اور شکستہ ہو چکا تھا اور خاک میں مل چکا تھا۔پس منافقوں کی زبانیں بند ہو گئیں اور مومنوں کے چہرے چمک اُٹھے اور ہر ایک شخص نے اپنے رب کی حمد کی اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا شکر بجا لایا اور سوائے زندیق اور فاسق کے سب ان کے پاس مطیع بن کر آگئے۔یہ سارا اجر اُس بندے کا تھا جسے اللہ نے چن لیا تھا اور اسے اپنی دوستی کے لئے مخصوص کر لیا تھا اور اس سے راضی ہو گیا تھا اور اس کو عافیت بخشی تھی اور اللہ تعالی محسنوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔حاصل کلام یہ کہ یہ تمام آیات حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کی خبر دے رہی ہیں اور ان کا کوئی اور مصداق نہیں ہے۔پس آپ تحقیق کی نظر سے اسے دیکھیں اور اللہ سے ڈریں اور متعصب مت بنیں۔پھر دیکھیں کہ یہ تمام آیات آئندہ کے لیے پیشگوئیاں تھی تا کہ ان کے ظہور کے وقت مومنوں کا ایمان بڑھ جائے اور وہ اللہ کے وعدوں کو پہچان لیں کیونکہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اسلام میں فتنے پیدا ہونے اور اس پر مصائب نازل ہونے کی خبر دی تھی اور ان میں یہ وعدہ تھا کہ اللہ تعالیٰ اس وقت بعض مومنوں کو خلیفہ بنائے گا اور خوف کے بعد ان کو امن دے گا اوران کے متزلزل دین کو تقویت بخشے گا اور مفسدین کو ہلاک کرے گا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس پیشگوئی کا مصداق سوائے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اور اُن کے زمانے کے کوئی نہیں۔پس انکار نہ کریں کیونکہ اس کی دلیل تو ظاہر ہو گئی ہے۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسلام کو ایسی دیوار کی طرح پایا جو مفسدین کی شرارت کی وجہ سے گرنے کو تھی، خدا تعالیٰ نے اس کو اُن کے ہاتھوں ایک چونے ، سچ، مضبوط اونچے قلعہ کی طرح بنا دیا جس کی دیواریں فولادی تھیں اور اس میں ایسی فوج تھی جو غلاموں کی طرح فرمانبردار تھی۔پس غور کریں کیا اس میں آپ کے لیے کوئی شک کی گنجائش ہے یا اس کی نظیر آپ کے نزدیک اور جماعتوں سے لانا ممکن ہے؟“ (اردو ترجمه از تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد 6 - ادارة أن المصنفين ) سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مجلس مشاورت 1984 ء سے جو اختتامی خطاب فرمایا تھا اس کا مکمل متن ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔تشہد وہ تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد یہ آیت کریمہ پڑھی۔وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَةِ لَنَّهُمُ