مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 82
وجہ سے گیا اور خوفناک اور حواس کو دہشت ناک کرنے والے حالات پیدا ہو گئے اور مومن بے چارگی کی حالت کو پہنچ گئے۔گویا ایک انگارا تھا جو ان کے دلوں میں بھڑکایا گیا یا یوں معلوم ہوتا تھا کہ وہ چھری کے ساتھ ذبح کر دیئے گئے ہیں کبھی وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فراق کی وجہ سے اور کبھی آگ کی مانند جلا دینے والے فتنوں کی وجہ سے روتے تھے اور امن وامان کا کوئی نشان باقی نہ رہا اور فتنوں میں پڑے ہوئے مسلمان ایسے مغلوب ہو گئے جیسے روڑی کے اُوپر اُگی ہوئی گھاس اُس کو ڈھانپ لیتی ہے۔پس مومنوں کا خوف اور گھبراہٹ بڑھ گیا اور اُن کے دل دہشت اور کرب سے بھر گئے تو ایسے وقت میں حضرت ابوبکر کو زمانے کا حاکم اور خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ بنایا گیا۔اسلام پر حالاتِ واردہ کی وجہ سے اور ان باتوں کی پ رضی اللہ عنہ نے منافقوں، کافروں اور مرتدین کی طرف سے دیکھیں۔آپ رضی اللہ عنہ پر سخت غم طاری ہو گیا اور آپ رضی اللہ عنہ موسم ربیع کی بارش کی طرح روتے تھے اور آپ رضی اللہ عنہ کے آنسو چشموں کی طرح بہتے تھے اور آپ رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ سے اسلام اور مسلمانوں کی بہتری اور بھلائی چاہتے تھے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب میرے باپ خلیفہ بنائے گئے اور اللہ تعالیٰ نے امر خلافت آپ رضی اللہ عنہ کو تفویض کیا تو آپ نے خلیفہ بنتے ہی فتنوں کو ہر طرف سے موجزن پایا اور یہ کہ جھوٹے نبوت کے مدعی جوش میں ہیں اور منافق مرتد لوگ بغاوت پر آمادہ ہیں۔سو آپ رضی اللہ عنہ پر اس قدر مصائب آپڑے کہ اگر پہاڑوں پر اتنی مصیبتیں نازل ہوتیں تو وہ ٹوٹ کر گر جاتے اور ریزہ ریزہ ہو جاتے لیکن آپ رضی اللہ عنہ کو رسولوں کی طرح ایک صبر عطا کیا گیا یہاں تک کہ اللہ کی نصرت آئی اور جھوٹے مدعیان موت قتل کئے گئے اور مرتد ہلاک کر دیئے گئے اور فتنوں اور مصائب کا قلع قمع کر دیا گیا اور معاملے کا فیصلہ کر دیا گیا اور امر خلافت مضبوط ہو گیا اور اللہ نے مومنوں کو مصیبت سے نجات بخشی اور ان پر خوف طاری ہونے کے بعد اسے امن میں بدل دیا اور ان کے دین کو مضبوط کر دیا اور مفسدین کے منہ کالے کر دیئے اور اللہ نے اپنا وعدہ پورا کیا اور اپنے بندے ابو بکر صدیق کی مدد فرمائی اور سرکشوں اور بڑے بڑے بتوں کو تباہ کر دیا اور کفار کے دلوں میں رعب ڈال دیا پس وہ شکست کھا گئے اور انہوں نے حق کی طرف رجوع کیا اور سرکشی سے توبہ کی اور یہ غالب خدا کا وعدہ تھا جو تمام بچوں سے زیادہ سچا ہے۔پس دیکھو کس طرح خلافت کا وعدہ اپنے تمام لوازم اور نشانات کے ساتھ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ذات میں پورا ہوا اور تمہیں اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہئے کہ وہ تمہارا سینہ اس تحقیق کے لیے کھول دے اور غور کرو کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے خلیفہ منتخب ہونے کے وقت مسلمانوں کی کیسی کمزور حالت تھی اور اسلام مصائب کی وجہ سے ایک جلے ہوئے شخص کی طرح تھا۔پھر اللہ نے دوبارہ اسلام کو طاقت بخشی اور اس کو گہرے کنویں سے نکالا اور جھوٹے مدعیانِ نبوت سخت عذاب کے ساتھ قتل کیے گئے اور مرتدین چوپایوں کی طرح ہلاک کر دیئے گئے اور اللہ نے مومنوں کو اس خوف سے امن دیا جس میں وہ مردوں کی طرح پڑے ہوئے تھے اور مومن اس مصیبت کے دور ہوتے ہی خوشیاں منانے لگے اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو مبارک باد دینے لگے اور رضی اللہ عنہ کو مرحبا اور خوش آمدید کہتے اور آپ رضی اللہ عنہ کی تعریف کرتے تھے اور آپ رضی اللہ عنہ کے لئے خدا تعالیٰ سے دعائیں مانگتے تھے اور آپ رضی اللہ عنہ کی تعظیم و تکریم میں جلدی کرتے تھے اور آپ رضی اللہ عنہ کی محبت اپنے دلوں میں بٹھاتے تھے اور تمام امور میں آپ رضی اللہ عنہ کی اطاعت کرتے اور آپ رضی اللہ عنہ کے شکر گزار تھے اور انہوں نے اپنے دلوں کو چلا دی اور دل کے کھیتوں کو سیراب کیا اور آپ رضی اللہ عنہ سے محبت میں بڑھ گئے اور پوری کوشش سے آپ رضی اللہ عنہ کی اطاعت کی اور وہ آپ رضی اللہ عنہ کو 82