مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 72
سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ثَبَتَ مِنَ الْقُرْآن اَنَّ الْخُلَفَاءَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ - فَاللَّهُ الَّذِي أَمَرَنَا أَجْمَعِينَ أَنْ نَّقُولُ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ مُصَلِّينَ وَمُمْسِيْنَ وَ مُصْبِحِيْنَ وَ اَنْ نَّطْلُبَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمَ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ أَشَارَ إِلَى أَنَّهُ قَدْ قَدَرَمِنَ الْإِبْتِدَاءِ أَنْ يَبْعَثَ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْضَ الصُّلَحَاءِ عَلَى قَدَمِ الْأَنْبِيَاءِ وَأَنْ يَسْتَخْلِفَهُمْ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ - وَإِنَّ هَذَا لَهُوَ الْحَقُّ فَاتْرُكِ الْجَلَالَ الْفُضُولَ وَالْاقَاوِيلَ وَكَانَ غَرَضُ اللَّهِ يَجْمَعُ فِى هَذِهِ الْأُمَّةِ كَمَالَاتٌ مُتَفَرَّقَةٌ وَاَخْلَاقًا مُّتَبَدَّدَة فَاقْتَضَتْ سُنَّتْهُ الْقَدِيمَةُ اَنْ يَّعْلَمَ هَذَا الدُّعَاءُ ثُمَّ يَفْعَلُ مَا شَاءَ وَقَدْ سُمِّي هَذِهِ الْأُمَّةُ خَيْرُ الْأُمَمِ فِى الْقُرْآنِ وَلَا يُحْصَلُ خَيْرٌ إِلَّا بِزِيَادَةِ الْعَمَلِ وَالْإِيْمَانِ وَالْعِلْمِ وَالْعِرْفَانِ وَابْتِغَاءِ مَرَضَاتِ اللهِ الرَّحْمَانِ وَ كَذلِكَ وَعَدَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِى الْأَرْضِ بِالْفَضْلِ وَالْعِنَايَاتِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاحِ وَالتَّقَاةِ۔فَثَبَتَ مِنَ الْقُرْآنِ أَنَّ الْخُلَفَاءَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ۔اعجاز مسیح۔روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 175 تا177) ترجمہ: پس اللہ تعالیٰ جس نے ہم سب کو نماز پڑھتے وقت اور صبح کے وقت اور شام کے وقت اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیم کی دعا مانگنے کا حکم دیا ہے اور یہ کہ منعم علیہ گروہ یعنی نبیوں اور رسولوں کا راستہ طلب کرتے رہیں۔اس میں یہ اشارہ ہے کہ اس نے شروع سے ہی مقدر کر رکھا ہے کہ بعض نیک لوگوں کو نبیوں کے نقش قدم پر اس امت میں مبعوث کرتا رہے گا اور انہیں اسی طرح خلیفہ نبا دے گا جیسا کہ اس نے اس سے پہلے بنی اسرائیل سے خلفا بنائے تھے اور یقینا یہی (بات) حق ہے۔پس تو فضول جھگڑے اور قیل و قال چھوڑ دے اور اللہ تعالیٰ کا منشا یہ تھا کہ اس امت میں مختلف کمالات اور گو ناگوں اخلاق جمع کر دے۔پس اللہ کی اس قدیم سنت نے تقاضا کیا کہ وہ یہ دعا سکھائے اور پھر اس کے بعد جو چاہے وہ کر دکھائے۔قرآن کریم میں اس امت کا نام خیر الامم (یعنی بہترین امت ( (یعنی بہترین امت) رکھا گیا ہے اور خیر اسی وقت حاصل ہوسکتی ہے جبکہ عمل ، ایمان، علم اور عرفان میں اضافہ ہو اور خدا ئے رحمان کی خوشنودی طلب کی جائے اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں اپنے فضل اور عنایت سے اسی دنیا میں ضرور خلیفہ بنائے گا جیسا کہ اس نے اس سے قبل نیکو کاروں اور متقیوں کو خلیفہ بنایا تھا۔پس قرآن کریم سے ثابت ہو گیا کہ مسلمانوں میں روز قیامت تک خلفا آتے رہیں گے۔“ ولایت، امامت اور خلافت تا قیامت ہیں: سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ( تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد 1 صفحہ 222 ،223) ولایت اور امامت اور خلافت کی ہمیشہ قیامت تک راہیں کھلی ہیں اور جس قدر مہدی دنیا میں آئے یا آئیں گے اُن کا شمار خاص اللہ جل شانہ کو معلوم ہے۔وحی رسالت ختم ہو گئی مگر ولایت و امامت و خلافت کبھی ختم نہیں ہو گی۔یہ سلسلہ آئمہ راشدین اور خلفائے ربانیین کا کبھی بند نہیں ہو گا۔“ ارشاد سیدنا حضرت خلیفة المسیح الاول رضی اللہ عنہ : ( بدر جون 1906ء صفحہ 3) 72