مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 580
جائے چنانچہ پندرہ روز کی قلیل مدت میں ان عورتوں نے پچاس ہزار کی بجائے پچپن ہزار روپیہ جمع کر دیا۔“ مجلس خدام الاحمدیہ کا قیام: ( تاریخ احمدیت جلد نمبر 4 صفحہ 310) حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ نے اللہ تعالیٰ کی مشیت خاص کے تحت غلبہ دین کے لئے جن عظیم الشان تنظیموں کی بنیاد رکھی ان میں سے نہایت اہم اور مستقبل کے اعتبار سے نہایت دور رس نتائج کی حامل تنظیم مجلس خدام الاحمدیہ ہے جس کا قیام 1938 ء کے آغاز میں ہوا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالی کو اپنے عہد خلافت کی ابتدا سے ہی احمدی نوجوانوں کی تنظیم و تربیت کی طرف ہمیشہ توجہ رہی کیونکہ قیامت تک اعلائے کلمتہ اللہ اور غلبہ دین حق کے لئے ضروری تھا کہ ہر نسل پہلی نسل کی پوری قائمقام ہو اور جانی و مالی قربانی میں پہلوں کے نقش قدم پر چلنے والی ہو اور ہر زمانے میں جماعت احمدیہ کے نوجوانوں کی تربیت اس طور پر ہوتی رہے کہ وہ دین حق کا جھنڈا بلند رکھیں۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ نے اس مقصد کے لئے وقتاً فوقتاً مختلف انجمنیں قائم فرمائیں مگر ان سب تحریکوں کی جملہ خصوصیات مکمل طور پر مجلس خدام الاحمدیہ کی صورت میں جلوہ گر ہوئیں اور حضرت صاحب کی براہِ راست قیادت، غیر معمولی توجہ اور حیرت انگیز قوت قدسی کی بدولت مجلس خدام الاحمدیہ میں تربیت پانے کے نتیجہ میں جماعت احمدیہ کو ایسے مخلص، ایثار پیشہ درد دل رکھنے والے انتظامی قابلیتیں اور صلاحیتیں رکھنے والے مدبر دماغ میسر آگئے جنہوں نے آگے چل کر سلسلہ احمدیہ کی عظیم ذمہ داریوں کا بوجھ نہایت خوش اسلوبی اور کامیابی سے اپنے کندھوں پر اٹھایا اور آئندہ بھی ہم خدا سے یہی امید رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر نسل میں ایسے لوگ پیدا کرتا چلا جائے گا۔مند مجلس انصار اللہ کا قیام: سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالٰی کی رہنمائی اور نگرانی میں 1922 ء سے عورتوں کی تربیت کے لئے لجنہ اماء اللہ اور 1938 ء سے نوجوانوں کی تربیت کے لئے مجلس خدام الاحمدیہ کی تنظیمیں قائم تھیں اور بہت جوش و خروش سے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی تھیں اور ان کی وجہ سے جماعت میں خدمت دین کا ایک خاص ماحول پیدا ہو چکا تھا مگر ایک تیسرا طبقہ ابھی باقی تھا جو اپنی پختہ کاری، لمبے تجربہ اور فراست کے اعتبار سے اگرچہ سلسلہ احمدیہ کی بہترین خدمات بجا لا رہا تھا مگر کسی مستقل تنظیم سے وابستہ نہ ہونے کے باعث قوم کی اجتماعی تربیت میں پورا حصہ نہیں لے سکتا تھا حالانکہ اپنی عمر اور تجربہ کے لحاظ سے قومی تربیت کی ذمہ داری براہِ راست اسی پر پڑتی تھی۔علاوہ ازیں خدام الاحمدیہ کے نوجوانوں کے اندر خدمت دین کے جوش کا تسلسل قائم رکھنے کے لئے بھی ضروری تھا کہ جب جوانی کے زمانہ کی دینی ٹرینگ کا دور ختم ہو اور وہ عمر کے آخری حصہ میں داخل ہوں تو وہ دوبارہ ایک تنظیم ہی کے تحت اپنی زندگی کے بقیہ ایام گزاریں اور زندگی کے آخری سانس تک دین کی نصرت و تائید کے لئے سرگرم عمل رہیں۔حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ تعالی کو مجلس خدام الاحمدیہ کی بنیاد رکھتے وقت بھی اس اہم ضرورت کا شدید احساس تھا مگر حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ چاہتے یہ تھے کہ پہلے خدام الاحمدیہ کی رضا کارانہ تنظیم کم از کم قادیان میں اپنے پاؤں پر کھڑی ہو جائے تو بتدریج کوئی نیا عمل قدم اٹھایا جائے۔چنانچہ دو اڑھائی سال کے بعد جبکہ یہ مجلس حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ کی تجویز فرمودہ لائنوں پر چل نکلی اور نوجوانوں نے رضا کارانہ طور پر حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ کے منشاء 580