مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 579
احباب جماعت کے لئے بہت ہی حوصلہ افزا ہے۔عورتوں کے خصوصی تعلیمی اداروں کا قیام، جامعہ نصرت کے ذریعہ کالج کی اعلیٰ تعلیم کا انتظام جس میں دینی تربیت کا پہلو نمایاں تھا۔پھر لجنہ اماء اللہ کی تنظیم کے ذریعہ مختلف دست کاریوں کی تربیت عورتوں کی علیحدہ علیحدہ کھیلوں کا انتظام ان میں مباحثوں اور تقاریر کا ذوق و شوق پیدا کرنا، مضمون نگاری کی طرف انہیں توجہ دلانا ،ان کے لئے علیحدہ اخباروں اور رسالوں کا اجرا اور جلسہ سالانہ میں عورتوں کے علیحدہ اجلاسات میں خواتین مقررین کا عورتوں کو خود خطاب کرنا، ہر قسم کی تعلیمی سہولتیں اس رنگ میں مہیا کرنا کہ غریب سے غریب احمدی بچی بھی کم از کم بنیادی تعلیم سے محروم نہ رہے۔ناصرات الاحمدیہ کا قیام: 1928ء سے لجنہ اماء اللہ کی زیر نگرانی چھوٹی بچیوں کی بھی ایک مجلس قائم کی گئی جس کا نام بعد میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ نے ”ناصرات الاحمدیہ رکھا۔اس مجلس میں سات سے پندرہ سال کی عمر تک کی بچیاں بطور ممبر شامل ہوتی ہیں جو اپنے عہد یدار خود چنتی ہیں اور لجنہ اماء اللہ کی زیر نگرانی اپنے الگ الگ اجتماعات منعقد کرتی ہیں اور دوسری علمی اور دینی دلچسپیوں میں حصہ لیتی ہیں۔ابتدائے عمر سے ہی بچیوں میں دینی اور علمی شوق پیدا کرنے کے لحاظ سے یہ مجلس بہت مفید کام کر رہی ہے۔شروع سے بچیوں کی تربیت اس انداز میں کی جاتی ہے کہ بڑی ہو کر جب وہ لجنہ اماء اللہ کی ممبر بنیں تو اپنے تجربہ اور تربیت کی بنا پر مجلس کی بہترین کارکن ثابت ہوں۔لجنہ اماء اللہ جو فیضان خلافت کا ایک منہ بولتا ثبوت ہے، کی سرگرمیوں کو غیروں نے بھی سراہا ہے۔چنانچہ مولوی عبدالحمید صاحب قریشی ایڈیٹر اخبار تنظیم امرت سر نے لکھا: لجنہ اماء اللہ قادیان احمد یہ خواتین کی انجمن کا نام ہے۔اس انجمن کے ماتحت ہر جگہ عورتوں کی اصلاحی مجالس قائم کی گئی ہیں اور اس طرح پر وہ تحریک جو مردوں کی طرف سے اٹھتی ہے خواتین کی تائید سے کامیاب بنائی جاتی ہے۔اس انجمن نے تمام احمدی خواتین کو سلسلہ کے مقاصد کے ساتھ عملی طور پر وابستہ کر دیا ہے عورتوں کا ایمان مردوں کی نسبت زیادہ مخلص اور مربوط ہوتا ہے۔عورتیں مذہبی جوش کو مردوں کی نسبت زیادہ محفوظ رکھ سکتی ہیں۔لجنہ اماء اللہ کی جس قدر کار گزاریاں اخبارات میں چھپ رہی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ احمدیوں کی ، آئندہ نسلیں موجودہ کی نسبت زیادہ مضبوط اور پر جوش ہوں گی اور احمد یہ عورتیں اس چمن کو تازہ دم رکھیں گی جس کا مرور زمانہ کے باعث اپنی قدرتی شادابی اور سر سبزی سے محروم ہونا لازمی تھا۔“ ایک کٹر آریہ سماج اخبار تیج ( 25 جولائی 1927 ء) نے رسالہ مصباح پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا: ”میرے خیال میں یہ اخبار اس قابل ہے کہ ہر ایک آریہ سماجی اس کو دیکھے اس کے مطالعہ سے انہیں احمدی عورتوں کے متعلق جو یہ غلط فہمی ہے کہ وہ پردہ کے اندر بند رہتی ہیں اس لئے کچھ کام نہیں کرتیں فی الفور دور ہو جائے گی اور انہیں معلوم ہو جائے گا کہ یہ عورتیں باوجود اسلام کے ظالمانہ حکم کے طفیل پردہ کی قید میں رہنے کے کس قدر کام کر رہی ہیں اور ان میں مذہبی احساس اور تبلیغی جوش کس قدر ہے۔ہم استری سماج قائم کر کے مطمئن ہو چکے ہیں لیکن ہم کو معلوم ہونا چاہئے کہ احمدی عورتوں کی ہر جگہ باقاعدہ انجمنیں ہیں اور جو وہ کام کر رہی ہیں اس کے آگے ہماری استری سماجوں کا کام بالکل بے حقیقت ہے۔مصباح کو دیکھنے سے معلوم ہو گا کہ احمدی عورتیں ہندوستان، افریقہ، عرب، مصر، یورپ اور امریکہ میں کس طرح اور کس قدر کام کر رہی ہیں۔ان کا مذہبی احساس اس قدر قابل تعریف ہے کہ ہم کو شرم آنی چاہئے۔چند سال ہوئے ان کے امیر نے ایک مسجد کے لئے پچاس ہزار روپے کی اپیل کی اور یہ قید لگا دی کہ یہ رقم صرف عورتوں کے چندے سے ہی پوری کی 579