مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 578 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 578

تصور بھی نہیں کر سکتا کہ ان میں کبھی آثار حیات بھی پیدا ہو سکتے ہیں لیکن اب احمدی جماعت کی جیتی جاگتی تنظیم کو دیکھ کر کچھ ایسا محسوس ہوتا ہے گویا۔۔۔۔۔۔۔۔غنچہ پھر لگا کھلنے آج ہم نے اپنا دل خون کیا ہوا دیکھا گم کیا ہوا پایا قادیان میں جماعت احمدیہ کے افراد 200 سے زیادہ نہیں۔یہی وہ مختصر سی جماعت ہے جس نے 1947ء کے خونی دور میں اپنے آپ کو ذبح وقتل کے لئے پیش کر دیا اور اپنے ہادی و مرشد کے مستقط الراس کو ایک لمحہ کے لئے چھوڑ نا گوارا نہ کی موج خون سر سے گذر ہی کیوں نہ جائے آستانے یار سے اٹھ جائیں کیا؟۔یہی وہ جماعت ہے جس نے محض اخلاق سے ہزاروں دشمنوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا اور ان سے بھی قادیان کو دار الامان تسلیم کر الیا۔یہی وہ جماعت ہے جو ہندوستان کے تمام احمدی اداروں کا سر رشتہ تنظیم اپنے ہاتھ میں لئے ہوئے ہے اور یہی وہ دُور افتادہ مقام ہے جہاں سے تمام اکناف ہند میں اسلام و انسانیت کی عظیم خدمت انجام دی جا رہی ہے۔آپ کو سن کر حیرت ہو گی کہ صرف پچھلے تین سال کے عرصہ میں انہوں نے تعلیم اسلامی، سیرت نبوی، ضرورت ،مذہب، خصوصیات قرآن وغیرہ متعدد مباحث پر 40 کتابیں، ہندی، اردو، انگریزی اور گورمکھی زبان میں شائع کیں اور ان کی 440500 کا پیاں تقریباً مفت تقسیم کیں۔“ ذیلی تنظیموں کا قیام: (فیضان مهدی دوران صفحه 229-228) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود صاحب خلیفہ لمسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی روحانی بصیرت اور خدا داد فکر و فراست نے یہ ضروری سمجھا کہ اصل مقصود کو پانے کے لئے پہلے افراد جماعت کو اندرونی طور پر منظم کرنا ضروری ہے۔چنانچہ اس مقصد کے پیش نظر آپ نے مسند خلافت پر فائز ہوتے ہی افراد جماعت کی تنظیمی لحاظ سے تربیت کرنا شروع کر دی اور سب سے پہلے عورتوں کی و تربیت اور تنظیم کی طرف توجہ دی کیونکہ عورتیں کسی بھی قوم کا اہم جزو شمار ہوتی ہیں۔بلکہ بعض لحاظ سے تو ان کا کام مردوں سے بھی زیادہ ذمہ داری کا رنگ رکھتا ہے کیونکہ قوم کا آئندہ بوجھ اٹھانے والے نونہال انہیں کی گودوں میں پرورش پاتے ہیں۔پس حضرت خلیفة أسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ کی دور بین نگاہ نے جماعت کی ترقی کے لئے ضروری سمجھا کہ عورتوں کی تعلیم و تربیت کی طرف توجہ دی جائے تا کہ وہ جماعت کے نظام کا ایک کا رآمد حصہ بن سکیں۔چنانچہ اسی مقصد کے حصول کے لئے حضرت خلیفۃ الثانی رضی اللہ تعالیٰ نے عورتوں کی تربیت شروع کر دی۔ان میں اسلام اور احمدیت کی خاطر قربانی کا جذبہ پیدا کیا اور ان کی طرف توجہ دی اور مستورات میں یہ احساس پیدا کیا کہ وہ مردوں سے قربانی میں کسی طرح بھی کم نہیں۔لجنہ اماء اللہ کا قیام: حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ نے 25 دسمبر 1922ء کو باقاعدہ طور پر لجنہ اماءاللہ کی تنظیم کی بنیاد رکھی۔احمدی عورتوں نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ کی قیادت میں ترقی کی جو منازل طے کیں اس کی تفصیل بڑی دلچسپ اور 578