مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 577 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 577

الی اللہ کے لئے تمام جدید ذرائع سے بھر پور فائدہ اٹھایا اور جماعت کے ہر فرد کو داعی الی اللہ قرار دیا۔حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے بابرکت دورِ خلافت میں بے شمار مشکلوں اور رکاوٹوں کے باوجود خدا کے فضل سے جماعت احمدیہ عالمگیر 175 ممالک میں مضبوطی سے قائم ہوئی۔منصب خلافت پر متمکن ہونے کے معا بعد حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے پیدرہ آباد سپین میں 700 سال بعد تعمیر ہونے والی پہلی بیت الذکر کا مؤرخہ 10 ستمبر 1982ء کو افتتاح فرمایا جس کا سنگ بنیاد حضرت خلیفۃ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے 9اکتوبر 1980ء کو رکھا تھا۔سپین میں خدا کا پہلا گھر مسجد بشارت بنانے کی خوشی میں شکرانے کے طور پر غریب اور ضرورت مند لوگوں کے لئے مکان بنانے کی سکیم ( بیوت الحمد منصوبہ ) کا بیت الاقصیٰ میں مورخہ 29 اکتوبر 1982 ء کو اعلان فرمایا۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے عہد خلافت میں 87 کشادہ، خوبصورت اور آرام دہ مکان بن چکے تھے۔500 افراد کو گھر کی حالت بہتر بنانے یا وسعت دینے کے لئے رقم فراہم کی گئی۔قادیان دارلامان میں بھی 37 مکان تعمیر کئے گئے جہاں درویشان قادیان کے خاندان یا ان کی بیوائیں رہائش پذیر ہیں۔1984ء میں جب پاکستان کے حالات خراب ہوئے تو حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کو ربوہ سے ہجرت کر کے لندن تشریف لے جانا پڑا۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی ہجرت کے19 سالوں میں84 نئے ممالک جماعت احمدیہ کو ملے اور دنیا بھر میں 35 ہزار 358 نئی جماعتیں قائم ہوئیں۔سکتا ہے۔خلافت رابعہ کا سب سے بڑا تحفہ MTA ہے جس کا باقاعدہ آغاز 7 جنوری 1984 ء کو ہوا۔اس کے بعد یکم اپریل1996ء سے چوبیس گھنٹے کی نشریات کا آغاز ہوا۔پھر 7 جولائی 1996 ء کو گلوبل ہیم کے ذریعہ جماعت کی تعلیم و تربیت نیز دعوت الی اللہ میں آسانی کے سامان پیدا ہو گئے۔ایم ٹی اے خدا کے فضل سے دنیا کا وہ واحد چینل ہے جس پر صرف اور صرف دینی پروگرام پیش کئے جاتے ہیں۔اسی طرح ایم ٹی اے کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اسے ساری دنیا میں دیکھا اور سنا جا چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے جماعت کی آئندہ تعلیمی، تربیتی اور دعوت الی اللہ کی ضروریات کے پیش نظر مؤرخہ 3 اپریل 1987ء کو وقف نو“ جیسی بابرکت تحریک جاری فرمائی جس کے تحت اس وقت تک پچپن ہزار بچے وقف نو کی با برکت تحریک میں شامل ہوچکے ہیں۔جنوری 1991ء میں حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے کفالت یک صد یتامی“ کا منصوبہ پیش فرمایا جس کے تحت تقریباً ڈیڑھ ہزار یتامی کو فیض پہنچ رہا ہے۔شہدائے احمدیت کے ورثا کی کفالت کیلئے حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے 14 اپریل1986ء کے خطبہ جمعہ میں ”سیدنا بلال فنڈ کا اعلان فرمایا۔حضرت خلیفة أمسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنی زندگی کی آخری مالی تحریک غریب بچیوں کی شادی کے اخراجات کے لئے 21 فروری 2003ء کو ایک فنڈ قائم کر کے کی۔اس تحریک کی برکت سے صرف ایک ہفتہ میں ایک لاکھ پونڈ جمع ہو گیا۔مؤرخہ 28 فروری 2003ء کے خطبہ جمعہ میں حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس فنڈ کا نام ”مریم شادی فنڈ“ تجویز فرمایا۔(الفضل 24 مئی 2006ء) علامہ نیاز فتح پوری 28 جولائی 1960 ء کو امر تسر سے قادیان تشریف لائے اور صرف 24 گھنٹے قادیان میں قیام کیا۔بعدہ اپنے رسالہ ماہنامہ نگار کے ستمبر 1960ء کے شمارہ میں اپنے تاثرات یوں تحریر کئے: زندگی میں سب سے پہلی سے پہلی مرتبہ جماعت احمدیہ کی جیتی جاگتی تنظیم عملی دیکھ کر میں ایک جگہ ٹھٹھک کر رہ گیا ہوں۔اور میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اپنی زندگی کے اس نئے تجربہ و احساس کو کن الفاظ میں ظاہر کروں۔میں مسلمانوں کی زبوں حالی اور علمائے اسلام کی بے عملی کی طرف سے اس قدر مایوس ہو چکا ہوں کہ میں اس کا 577