مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 569
میں راہ پاجانے والی غلط باتوں کی اصلاح فرما رہے ہیں اور بات یہیں پر ختم نہیں ہو جاتی بلکہ آپ خدا کے پہلوان کی طرح شیر ببر بن کر قرآن مجید پر حملہ آور ہونے والوں کے مقابلہ پر چومکھی لڑائی میں مشغول نظر آتے ہیں۔بدطینت مستشرقین کی قرآن پاک، رسول اللہ ملالہ اور آپ ملالہ کے اصحاب کے خلاف ہرزہ سرائی کا دندان شکن جواب بھی دے رہے ہیں اور الزام تراشی کرنے والوں اور قرآن کے حسن کو گہنانے کی کوشش کرنے والوں کے مقابل پر فتح و ظفر کے جھنڈے لہرا رہے ہیں۔اس طرح یہ سلسلہ دروس حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے قرآن مجید سے عشق اور اس کی خدمت کا ایک عظیم الشان اور سنہرا باب ہے۔جدید اکتشافات کے بیان اور علمی تحقیقات سے مزین ان دروس کا آغاز حضرت خلیفۃ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی ہجرت کے معاً بعد آنے والے رمضان المبارک 1984ء میں سورۃ فاتحہ کی تفسیر سے ہوا۔ابتدائی سالوں میں بعض معین دنوں میں بزبان انگریزی یہ درس ہوتا تھا۔پھر MTA کے آغاز کے بعد رمضان المبارک فروری 1993ء سے رمضان المبارک 2001 ء تک مسلسل یہ درس بزبان اردو براہِ راست نشر ہوتا رہا۔اردو میں ارشاد فرمائے گئے ان دروس کا آغاز سورۃ آل عمران کی آیت نمبر 145 سے ہوا اور آخری درس میں سورۃ انفال کی آیت نمبر 2 کی تفسیر بیان فرمائی۔(الفضل انٹر نیشنل 25 جولائی 2003ء بحوالہ الفضل 27 دسمبر 2003ء) ہماری خوش نصیبی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں وقت کے امام کو پہچاننے کی توفیق دی اور اس کا سراسر فضل و احسان ہے کہ ہمیں خلافت کے نظام میں شامل کیا، ایک امام عطا کیا جو ہمارے لئے اپنے دل میں درد رکھتا ہے، ہمارے لئے اپنے دل میں پیار رکھتا ہے، اس خوش قسمتی پر جتنا بھی شکر کیا جائے کم ہے، اس شکر کا ایک طریق یہ بھی ہے کہ ہم خلیفہ وقت کی آواز سنیں، اس کی ہدایات کو سنیں اور ان پر عمل کریں کیونکہ اس کی آواز کو سننا باعث ثواب اور اس کی باتوں پر عمل کرنا دین و دنیا کی بھلائی کا موجب ہے۔اس کی آواز وقت کی آواز ہوتی ہے، خدا تعالیٰ کے یہ برگزیدہ بندے زمانے کی ضرورت کے مطابق بولتے اور خدائی تقدیروں کے اشاروں سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔الہی تائیدات و نصرت ان کے شامل حال ہوتی ہیں۔خدائی صفات ان کے اندر جلوہ گر ہوتی ہیں۔حضرت خلیفۃ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”خدا تعالیٰ جس شخص کو خلافت پر کھڑا کرتا ہے وہ اس کو زمانے کے مطابق علوم بھی عطا کرتا ہے۔۔۔۔۔۔اسے اپنی صفات بخشا ہے۔66 حضرت مصلح موعو رضی الہ عنہ فرماتے ہیں: (الفرقان مئی، جون 1967ء۔صفحہ 37) ” خلافت کے تو معنی ہی یہ ہیں کہ جس وقت خلیفہ کے منہ سے کوئی لفظ نکلے اس وقت سب سکیموں،سب تجویزوں اور سب تدبیروں کو پھینک کر رکھ دیا جائے اور سمجھ لیا جائے کہ اب وہی سکیم یا وہی تجویز اور وہی تدبیر مفید ہے جس کا خلیفہ وقت کی طرف سے حکم ملا ہے۔جب تک یہ روح جماعت میں پیدا نہ ہو اس وقت تک سب خطبات رائیگاں، تمام سکیمیں باطل اور تمام تدبیریں ناکام ہیں۔“ (خطبہ جمعہ 24 جنوری 1936 ء مندرجہ الفضل 31 جنوری 1936ء) خلافت احمدیہ کے قیام کا پہلا سو سال گواہ ہے کہ خلفائے احمدیت نے ہر موڑ پر خطبات، خطابات اور تقاریر کے ذریعہ سے جماعت کی ایسے رنگ میں رہنمائی فرمائی کہ آج جماعت احمدیہ کا جھنڈا بڑے طمطراق کے ساتھ دنیا کے 181 ممالک میں لہرا رہا ہے۔خطابات، خطبات اور تقاریر خلفائے احمدیت کا یہ ایک ایسا مستقل اور مسلسل جاری رہنے والا فیضان ہے کہ اس میں سے ہر کوئی حصہ پارہا ہے۔خلافت اولی میں حضرت خلیفہ اسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کے خطبات و خطابات نے خلافت کی اہمیت و برکت 569