مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 567 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 567

خاں ایڈیٹر اخبار ”زمیندار“ لاہور رقمطراز ہیں:۔"۔۔۔۔۔تم اور تمھارے لگے بندھے مرزا محمود کا مقابلہ قیامت تک نہیں کر سکتے۔مرزا محمود احمد کے پاس قرآن ہے اور قرآن کا علم ہے۔تمھارے پاس کیا دھرا ہے؟ تم نے تو کبھی خواب میں بھی قرآن نہیں پڑھا۔“ ایک خوفناک سازش از مولانا مظہر علی اظہر صفحه 196) 4 مارچ 1927 ء کو لاہور میں ایک جلسہ منعقد ہوا۔یہ جلسہ شاعر مشرق جناب ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی صدارت میں ہوا جس میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے ایک تقریر فرمائی۔اس تقریر کے بعد صدر جلسہ علامہ اقبال نے حاضرین سے اپنے نہایت مختصر خطاب کے دوران فرمایا:۔۔۔۔۔۔ای پر از معلومات تقریر بہت عرصے کے بعد لاہور میں سننے میں آئی ہے۔خاص کر جو قرآن شریف کی آیات سے مرزا صاحب نے استنباط کیا ہے وہ تو نہایت ہی عمدہ ہے۔میں اپنی تقریر کو زیادہ دیر تک جاری نہیں رکھ سکتا تا مجھے اس تقریر سے جو لذت حاصل ہو رہی ہے وہ زائل نہ ہو جائے۔“ دو (الفضل 15 مارچ 1927 ء) حضرت خلیفة المسح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بابرکت عہد خلافت میں جن تحریکات کا اجرا فرمایا وہ تمام کی تمام غیر معمولی طور پر کامیابی سے ہمکنار ہوئیں اور جماعت کی ترقی کا باعث بنیں۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم پڑھنے ھنے اور پڑھانے کی جو تحریک فرمائی ہے وہ بھی بہت کامیاب ہو رہی ہے۔ہزاروں احمدی اپنے خرچ پر وقف عارضی کی تحریک میں حصہ لے کر لوگوں کو قرآن کریم پڑھانے میں مشغول ہیں اور انہیں برائیوں سے بچنے اور نیک کام کرنے کی تلقین کر رہے ہیں۔اس تحریک کے نتیجہ میں جماعت کی دینی تعلیم کا اور اس کی تربیت کا انتظام ہو رہا ہے اور وہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جا رہی ہے۔الفضل 24 مئی 2006ء) حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالٰی کی خدمات قرآن کے حوالہ سے عظیم الشان خدمت اور تاریخ احمدیت میں سنہری حروف سے لکھا جانے والا امر آپ کا وہ معرکۃ الآرا ترجمۃ القرآن جو متن کے قریب تر رہ کر ایسا بامحاورہ ترجمہ ہے کہ جو اردو زبان کے محاسن سے بھی مرصع ہے اور قرآن مجید کی غرض و غایت اور اصل مضامین کو بھی اظہر من الشمس کر رہا ہے۔اس ترجمہ کو خوب سے خوب تر بنانے میں حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے ایسی والہانہ اور انتھک محنت کی کہ جس کی نظیر نہیں ملتی۔انگلستان میں قیام ہو یا بیرونی دورہ جات کا اثناء مخصوص کیسے ہوئے وقت کے علاوہ بھی جب وقت میسر آتا (بلکہ وقت نکالتے) معاون کو بلا کر ترجمہ پر نظر ثانی کا کام شروع فرما دیتے۔متعدد لغات اور گزشتہ تفاسیر کو بھی پیش نظر رکھا حتی کے متعدد بار مکمل ترجمہ قرآن کی از سر نو دُہرائی فرمائی اور ہر بار اس محبوب کے حسن کو مزید سنوار کر اور نکھار کر پیش فرمایا جس میں جا بجا اچھوتے ترجمہ کے پھول بہار جاوداں دکھا رہے ہیں اور اس پر مستزاد سورتوں کے آغاز میں وہ تعارفی نوٹ ہیں جو عرفان قرآن اور تربیتی اخلاقی مضامین کے ساتھ ساتھ زمانہ حاضر کی جدید سائنسی ترقیات اور آئندہ سے متعلق پیشگوئیوں پر مشتمل معارف کا بھی نہایت احسن احاطہ کر رہے ہیں۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالٰی نے اپنے کئی خطبات کے ذریعہ جماعت میں یہ یقین راسخ فرمایا کہ: ”ہماری نسلوں کو اگر سنبھالنا ہے تو قرآن کریم نے سنبھالنا ہے۔جب تک یہ کتب قریب نہ آئے اس دنیا کے مسائل حل نہیں ہو سکتے اور نہ ہماری تربیت ہو سکتی ہے۔“ چنانچہ قرآن کریم کو ذہنوں اور دلوں کے قریب کرنے اور تربیت کی بنیادی ضرورت پوری کرنے کے لئے اور قرآن کریم سے رہنمائی حاصل کرنے کا طریق سکھانے کیلئے آپ نے ایک ترجمہ القرآن کلاس کا آغاز فرمایا۔درحقیقت امام وقت ہی ہوتا ہے 567