مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 564
6 احمدیہ کی تقریر سے معلوم ہوا کہ اسلام تمام انسانوں میں مساوات کی تعلیم (دیباچہ اسلام کا اقتصادی نظام) حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ ایک بلند پایہ مصنف بھی تھے۔آپ رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتب عصر حاضر کا بہترین علمی شاہکار ہیں۔جن میں مذہب کے نام پر خون وصال ابن مریم، سوانح فضل عمر حصہ اول و دوم، ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل ,Response to Contemporary Issues, Christianity: A Journey from Facts to Fiction۔Revelation۔Rationality نیز قرآن کریم کی سورتوں کے تعارف اور مختصر تشریحی نوٹس کے ساتھ ترجمہ قابل ذکر ہیں۔آپ رحمہ اللہ تعالیٰ کا منظوم کلام بھی جماعتی تعلیم و تربیت میں بڑا ممد و معاون ثابت ہوا جو کہ کلام طاہر کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔آپ رحمہ اللہ تعالیٰ کے تعلیمی و تربیتی اور عالمی و ملکی مسائل سے متعلق متعدد سلسلہ وار خطبات بھی کتابی صورت میں چھپ کر اپنوں اور غیروں کی رہنمائی کا باعث بن رہے ہیں۔جن میں سے خلیج کا بحران اور نظام جہان نو، ذوق عبادت اور آداب دعا۔زھق الباطل اور سلمان رشدی کی کتاب پر محققانہ تبصرہ کے عنوان سے معروف ہیں۔جماعت احمدیہ میں علم حدیث کی ترویج: الفضل 24 مئی 2006 ء) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیمات اور عملی نمونہ کی اتباع میں جماعت احمدیہ میں قرآن کریم کے بعد حدیث کو افراط و تفریط سے بچ کر اس کا صحیح مقام دیا گیا ہے۔خاص طور پر صحیح بخاری کے درس و تدریس کا سلسلہ تو حضرت خلیفۃ امسیح الاوّل رضی اللہ عنہ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ہی شروع فرمایا تھا اور اپنی وفات سے پہلے جو وصیت تحریر کروائی تھی اس میں لکھا تھا : قرآن اور حدیث کا درس جاری رہے۔آپ رضی اللہ عنہ کو اس بات کا بہت احساس تھا کہ صحیح بخاری کا ترجمہ اور ضروری مقامات کی تشریح جماعت کی طرف سے شائع ہو۔ایک دفعہ صحیح بخاری کے درس کے دوران فرمایا: جو ترجمہ صحیح بخاری درس حدیث میں احباب کے سامنے ہوتا ہے وہ ترجمہ مولوی وحید الزمان کا ہے جو لاہور اور امرتسر میں چھپا ہے۔اس کا اشتہار اخبار بدر میں بھی ہوتا ہے۔جہاں تک ہمیں معلوم ہے اس کے سوائے اور کوئی ترجمہ بین السطور نہیں ہے۔مولوی وحید الزمان سلسلہ کا سخت دشمن ہے اور اس نے جا بجا اپنے حاشیہ میں خواہ مخواہ ہم کو گالیاں دی ہیں لیکن جب تک وہ وقت نہ آجائے کہ ہمارے اپنے ترجمے اور حاشیے چھپیں تب تک ایسا نہیں ہو سکتا کہ ان لوگوں کی گالیوں سے ڈر کر بخاری کے ترجمہ کو پڑھنا چھوڑ دیں۔۔۔۔۔۔۔اصل بخاری اور اس کے ترجمہ میں تو کوئی دخل ہی کیا دے سکتا ہے باقی رہے حواشی سو خُذْ مَا صَفَا وَ دَعْ مَا كَدَرَ پر عمل کرنا چاہئے۔بدر 7 اگست 1913ء درس حدیث صحیح بخاری صفحہ 6) حضرت مصلح موعود خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے صحیح بخاری درساً حضرت خلیفۃ انسیح الاول رضی اللہ عنہ سے پڑھی تھی۔آپ رضی اللہ عنہ کو بھی باوجود اپنی دیگر مصروفیات اور فرائض کی ادائیگی کے اس ضرورت کا بہت احساس تھا کہ جماعت میں حدیث کی تعلیم عام ہو۔چنانچہ 28 اکتوبر 1926ء کو حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے جامع صحیح بخاری کے ترجمہ اور تشریح کا کام حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سپرد کر کے فرمایا: بہت سے ضروری کام ہیں جو کرنے کے ہیں مگر ان کی طرف توجہ نہیں تھی۔مثلاً صحیح بخاری کے ترجمہ اور اس کی شرح کا کام بھی نہایت ضروری اور اہم ہے۔اگر ہم نے نہ کیا تو ان لوگوں سے کیا توقع ہو سکتی ہے جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی صحبت میں رہنے کا موقع نہیں ملا اور جو آپ علیہ السلام کے فیضان سے 564