مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 561 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 561

نے 30,25 ہزار پاؤنڈ پیش کئے آپ رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ” میرے علم میں افریقی ممالک کا کوئی اکیلا فرد بھی ایسا نہیں جس نے بیک وقت 30,25 ہزار چندہ دیا ہو۔اسی طرح ایک اور نائیجیرین خاتون الحاجہ لا رگا نے بھی دس ہزار پاؤنڈ مسجد کے لئے پیش کئے۔امریکہ میں پرانے زمانوں میں بہت غربت تھی یعنی احمدی افراد اکثر پیدائشی امریکیوں میں سے آئے تھے اور ان کے حالات اس وقت بہت ہی غربت کے حالات تھے تو احمدی خواتین خدمت کر کے اپنی قربانی کی روح کو تسکین دیا کرتی تھیں۔ہماری ایک مخلص خاتون کلیولینڈ اوہایو (Cleveland, Ohio) سے تعلق رکھتی ہیں انہوں نے بتایا کہ ہم اتنے غریب تھے کہ میرا سارا خاندان اتنا شکستہ حال تھا کہ کچھ بھی ہم خدمت کرنے کے لائق نہ تھے۔میں اپنے خدمت کے جذبے کو تسکین دینے کے لئے یہ کیا کرتی تھی کہ جمعہ کے روز علی اصبح مشن ہاؤس جاتی اپنے ساتھ پانی کی بالٹی اور گھر میں بنائے ہوئے صابن کا ٹکڑا لے جاتی تھی یعنی اس زمانے میں امریکہ جیسے ملک میں بھی ان کو صابن خریدنے کی توفیق نہیں ملتی تھی گھر میں بنایا ہوا صابن لے جا کر ساری مسجد دھوتی اور پالش کرتی اور جمعہ سے پہلے اس لئے واپس آجایا کرتی تھی کہ کسی کو پتہ نہ لگے کہ یہ کام کس نے کیا ہے۔عجیب حسین اور ہمیشہ زندہ رہنے والی قربانیاں ہیں لیکن بے آواز ہیں اور ہر ملک میں احمدی عورتیں اس قربانی میں برابر شریک ہوتی ہیں۔“ (محسنات از لجنہ اماء اللہ کراچی - صفحه 214) حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنی تقریر 12 ستمبر 1992ء کو جلسہ سالانہ جرمنی کے موقع پر فرمایا: حضرت فضل عمر اس زمانے میں مسجد برلن کی تعمیر کی تحریک کے دوران ایک احمدی پٹھان عورت کی قربانی کا ذکر کرتے ہیں۔کہتے ہیں: ضعیف تھی، چلتے وقت قدم سے قدم نہیں ملتا تھا، لڑکھڑاتے ہوئے چلتی تھی، میرے پاس آئی اور دو روپے میرے ہاتھ میں تھما دیئے۔زبان پشتو تھی، اُردو اٹک اٹک کر تھوڑا تھوڑا بولتی تھی اتنی غریب عورت تھی کہ جماعت کے وظیفہ پر پل رہی تھی اس نے اپنی چھنی کو ہاتھ لگا کر دکھایا کہ یہ جماعت کی ہے اپنی قمیص کو ہاتھ میں پکڑ کر بتایا کہ یہ جماعت کی ہے، جوتی کی طرف اشارہ کر کے کہا یہ بھی جماعت کی ہے اور جو وظیفہ ملتا تھا اس میں سے جو دو روپے تھے وہ کہتی ہے وہ بھی جماعت ہی کے تھے۔میں نے اپنے لئے اکٹھے بچائے ہوئے تھے اب میں یہ جماعت کے حضور پیش کرتی ہوں۔کتنا عظیم جذبہ تھا وہ دو روپے جماعت ہی کی وظیفہ سے بچائے ہوئے تھے لیکن اللہ تعالیٰ کے حضور اس دو روپے کی عظیم قیمت ہو گی۔حضرت فضل عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس نے کہا یہ جوتی دفتر کی ہے، میرا قرآن بھی دفتر کا ہے یعنی میرے پاس کچھ بھی نہیں مجھے ہر چیز دفتر سے ملتی ہے۔فرماتے ہیں اس کا ایک ایک لفظ ایک طرف تو میرے دل پر نشتر کا کام کر رہا تھا ور دوسری طرف میرا دل اس محسن کے احسان کو یاد کر کے جس نے ایک مردہ قوم میں سے زندہ اور سر سبز روحیں پیدا کر دیں۔شکر و احسان کے جذبات سے لبریز ہو رہا تھا اور میرے اندر سے یہ آواز آ رہی تھی۔خدایا! تیرا مسیحا کس شان کا تھا جس نے ان پٹھانوں کی جو دوسروں کا مال لوٹ لیا کرتے تھے ایسی کایا پلٹ دی کہ مرہ تیرے دین کے لئے اپنے ملک اور اپنے عزیز اور اپنا مال قربان کر دینا ایک نعمت سمجھتے ہیں۔“ حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”جب مسجد کوپن ہیگن کی تحریک ہو رہی تھی اور عورتیں جس طرح والہانہ طور ہو رہی تھی اور عورتیں جس طرح والہانہ طور پر سب کچھ حاضر کر رہی تھیں تو اتفاق سے ایک غیر احمدی عورت بھی وہاں بیٹھی یہ نظارہ دیکھ رہی تھی۔اس نے یہ تبصرہ کیا کہ ہم نے دیوانہ وار لوگوں کو پیسے لیتے دیکھا ہے لیکن دیوانہ وار لوگوں کو پیسے دیتے کبھی نہیں دیکھا۔یہ آج احمدی عورتوں نے ہمیں وو پر 561