مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 560
پذیر ہے۔کیا دنیا میں کوئی قوم اس کی مثال پیش کر سکتی ہے۔اسی لئے جماعت کے ایک مخالف نے لکھا کہ: دو ہر قادیانی اپنے باطل مذہب کی اشاعت کے لئے اپنی آمد میں سے 1/16 یا 1/10 حصہ دیتا ہے۔1/10 حصہ جو شخص جماعت کے نام وقف کر دے وہ ان کے نزدیک بہشتی شمار ہوتا ہے اور مرنے کے بعد اسے بہشتی مقبرہ میں دفن کیا جاتا ہے۔ایسے لوگوں کی تعداد میں ہزار سے زائد ہو چکی ہے جن کے نام باقاعدہ ان کے الفضل میں شائع ہوتے رہتے ہیں لیکن افسوس کہ ختم نبوت کے عظیم مقصد کیلئے ابھی تک ایک عاشق بھی ایسا نہیں ملا جو 1/10 چھوڑ کر 1/100 حصہ بھی وقف کر دیتا۔“ اخبار (ماہنامہ الفرقان جنوری 1974ء صفحہ 20) احمدیت کی تاریخ شاہد ہے کہ اپنے پیارے امام کی آواز پر جہاں مردوں نے والہانہ لبیک کہا وہاں عورتوں نے بھی دلی جوش سے ہر طرح کی قربانی پیش کر کے اپنے ایمانی جذبہ اور خلوص کا شاندار مظاہرہ کیا۔جو نقوش جہاں انمٹ ہیں وہاں قابل صد افتخار بھی ہیں۔انہیں نقوش پا پر چلتے چلتے آج احمدی مستورات ایک ایسے مقام پر آپہنچی ہیں جہاں باقی دنیا کی عورتیں پہنچنے کا تصور بھی نہیں کر سکتیں۔جماعت کی کوئی مالی تحریک ایسی نہیں جس میں خواتین نے بڑھ چڑھ کر حصہ نہ لیا ہو۔مثلاً بیوت الذکر کی تعمیر ، تبلیغی مشنوں کا قیام، قرآن کریم کی اشاعت الرقیم پریس، ایم ٹی اے غرض جب بھی ضرورت پڑی خواتین نے اپنی جمع پونجی، محنت مزدوری کا معاوضہ بشاشت سے اللہ کے حضور پیش کر دیا۔وو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: (محسنات مرتبه لجنہ اماء اللہ کراچی صفحہ 184) یہ خلافت ہی کی برکت ہے جو تم دیکھ رہے ہو کہ کس طرح قادیان کے غریبوں اور مسکینوں نے ایسی قربانی پیش کی جس کی نظیر کسی اور جماعت میں نہیں مل سکتی۔آج بھی مجھے حیرت ہوئی جب کہ ایک غریب عورت جو تجارت کرتی ہے جس کا سارا سرمایہ سو ڈیڑھ سو روپے کا ہے اور جو ہندوؤں سے مسلمان ہوئی ہے صبح ہی میرے پاس آئی اور اس نے دس دس روپے کے پانچ نوٹ یہ کہتے ہوئے مجھے دیے کہ یہ میری طرف سیمسجد کی توسیع کے لئے ہیں۔میں نے اس وقت اپنے دل میں کہا کہ اس عورت کا یہ چندہ اس کے سرمایہ کا آدھا یا ثلث ہے مگر اس نے خدا کا گھر بنانے کیلئے آدھا ثلث سرمایہ پیش کر دیا ہے پھر کیوں نہ ہم یقین کر یں کہ خدا بھی اپنی اس غریب بندی کا گھر جنت میں بنائے گا اور اسے اپنے انعامات سے حصہ دے گا۔الفضل 14 مارچ 1944ء صفحہ 11) (بیت) اقصیٰ اور (بیت) مبارک قادیان کی توسیع کیلئے حضرت فضل عمر (اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو) نے 23 دسمبر 1938ء کو ایک تحریک کی کہ ہر کمانے والا دس روپے فی کس کے حساب سے چندہ دے اور جن عورتوں کی کوئی آمدنی نہیں اور بچے بھی صرف ایک پیسہ فی کس چندہ دیں تا کہ جماعت کا کوئی فرد اس ثواب سے محروم نہ رہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے عورتوں کے جذبہ قربانی کا یوں تذکرہ فرمایا: ”جب میں نے اس کے متعلق خطبہ پڑھا تو باوجود یہ کہ میں نے کہہ دیا تھا اس تحریک میں دس روپے سے زیادہ کسی سے نہ لیا جائے پھر بھی ایک عورت نے اپنی دوسو روپے کے قریب مالیت کی چوڑیاں اس فنڈ میں داخل کر دیں جو میں نے بہ زور واپس کیں اور کہا کہ آپ اس میں سے دس روپے تک ہی دے سکتی ہیں۔“ تاریخ لجنہ جلد 1 صفحہ 436 و 437) نائیجیریا (Nigeria) میں جب امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفة أصبح الثالث رحمہ اللہ تعالی نے تحریک فرمائی تو ایک خاتون 560