مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 559
خلافت احمدیہ کے بابرکت سائے تلے جماعت احمدیہ کی قربانیاں: حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں ایک انسان ہوں اور آخر ایک دن ایسا آئے گا جب میں مر جاؤں گا اور پھر اور لوگ اس جماعت کے خلفا ہوں گے۔میں نہیں جانتا اس وقت کیا حالات ہوں گے اس لئے ابھی سے تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تمہیں اور تمہاری اولادوں کو ٹھوکر نہ لگے۔اگر کوئی خلیفہ ایسا جس نے سمجھ لیا کہ جماعت کو زمینوں سے اس قدر آمد ہو رہی ہے۔تجارتوں سے اس قدر آمد ہو رہی ہے۔صنعت و حرفت سے اس قدر آمد ہو رہی ہے تو پھر اب جماعت سے کسی اور قربانی کی کیا ضرورت ہے؟ اس قدر روپیہ آنے کے بعد ضروری ہے کہ جماعت کی مالی قربانیوں میں کمی کر دی جائے تو تم یہ سمجھ لو وہ خلیفہ خلیفہ نہیں ہو گا بلکہ اس کے یہ معنی ہوں گے کہ خلافت ختم ہو گئی اور کوئی اسلام کا دشمن پیدا ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔پس چاہئے کہ ایک ارب پونڈ خزانہ میں آجائے تب بھی خلیفہ وقت کا فرض ہو گا کہ ایک غریب کی جیب سے جس میں ایک پیسہ ہے دین کے لئے پیسہ نکال لے اور ایک امیر کی جیب میں سے دس ہزار روپیہ موجود ہے دین کیلئے دس ہزار نکالے کیونکہ اس کے بغیر دل صاف نہیں ہو سکتے اور بغیر دل صاف ہونے کے جماعت نہیں بنتی اور بغیر جماعت بننے کے خدا تعالیٰ کی رحمت اور برکت نازل نہیں ہو سکتی۔۔۔پس۔۔۔تمہارے اندر زندگی پیدا کرنے کیلئے، تمہارے اندر روحانیت پیدا کرنے کیلئے ضروری ہے کہ تم سے قربانیوں کا مطالبہ کیا جائے اور ہمیشہ اور ہر آن کیا جائے۔اگر قربانیوں کا مطالبہ ترک کر دیا جائے تو یہ تم پر ظلم ہو گا، یہ تقویٰ اور ایمان پر ظلم ہوگا۔“ (الفضل 7اپریل1944ءصفحہ 7) ”اب دیکھ لو کہ جماعت احمد یہ خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے کس قدر مالی قربانی دے رہی ہے۔کہیں چندہ عام ہے کہیں حصہ آمد ہے، کہیں تحریک جدید ہے اور کہیں وقف جدید ہے اور کہیں نصرت جہاں سکیم ہے اور فضل عمر فاؤنڈیشن اور بیوت الحمد وغیرہ تحریکیں ہیں اور یہ کروڑ ہا رقوم کی تعداد میں ہر سال پورے تسلسل کے ساتھ ریکات جاری و ساری ہیں اور اس میں صرف عاقل و بالغ مرد ہی نہیں بلکہ عورتیں اور بچے بھی پورے اخلاص کے ساتھ شریک ہیں اور سب سے بڑی بات یہ جو بہ فیض حضرت امام لزماں اس جماعت کو حاصل ہے۔وہ یہ ہے کہ چندے تو جمع ہو جاتے ہیں لیکن ان میں ہیرا پھیری، غبن، بے جا اسراف وغیرہ جیسی بلائیں جو دوسری جگہ عام ہیں یہاں ان کا نام و نشان بھی نہیں ہے۔66 (فیضان مهدی دوران از مکرم عبدالرحمن مبشر صاحب - صفحه 107) مالی قربانیوں میں جماعت احمدیہ کے انشراح صدر کا معیار ہمارا نظام وصیت ہے۔ایک عام احمدی ہر ماہ اپنی آمدنی کا 1/10 حصہ نظام وصیت میں ادا کرتا ہے۔لازمی چندوں کے علاوہ سلسلہ کی متفرق تحریکات، تحریک وقف جدید، امانت تربیت، خلافت جوبلی فنڈ، ذیلی تنظیموں، یتامی، مریضان، بیوت الحمد اور امداد طلبا میں حصہ لیتا ہے اور اپنے والدین اور بیوی بچوں کی طرف سے بھی۔ذاتی صدقہ و خیرات لوکل فنڈ اور ہنگامی خدمات اس کے علاوہ ہیں۔جدید ان سب قربانیوں کے باوجود پھر یہ وصیت کر جاتا ہے کہ میرے ترکہ میں بھی 1/10 تا 1/3 حصہ دین حقہ کو پیش کیا جائے۔اور یہی نصیحت اپنی اولاد در اولاد کو کرتا چلا جاتا ہے۔یہ سلسلہ پورے سو سال سے جاری اور ترقی 559