مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 557
(الفضل یکم اپریل 1989ء) تزکیہ نفس اور تطہیر قلوب ایسے عناصر ہیں جو انسان کو مسلسل کے بعد عطا ہوتے ہیں۔خلفائے احمدیت نے ہمیشہ اپنے خطبات، خطابات اور تقاریر کے ذریعہ سے ایسے راستہ کی طرف رہنمائی فرمائی جس کی منزل تزکیہ نفس اور تطہیر قلب کی صورت میں ملتی ہے۔خلافت کا یہ ایک عظیم الشان فیضان ہے جس نے لوگوں کی حالت یکسر بدل دی جس کے بعض نمونے پیش ہیں: سیرالیون کے علی روجرز (Rogers) نے احمدیت قبول کی تو اس وقت وہ جوان تھے اور ان کی بارہ بیویاں تھیں۔جماعت کے مربی مولانا نذیر احمد صاحب علی نے انہیں فرمایا کہ اب آپ احمدی ہو چکے ہیں اس لئے قرآنی تعلیم کے مطابق چار بیویاں رکھ سکتے ہیں اور باقی کو طلاق اور نان نفقہ دے کر رخصت کر دیں۔انہوں نے نہ صرف اس ہدایت پر فوراً عمل کیا بلکہ مربی سلسلہ کے کہنے پر ادھیڑ عمر چار بیویاں اپنے پاس رکھیں اور نوجوان بیویوں کو رخصت کر دیا۔(الفضل 28 جون 2003ء) سیدنا حضرت مرزا طاہر احمد صاحب خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یورپ کے بعض احمدی دکانداروں کے متعلق مجھے معلوم ہوا ہے کہ ان کے ہوٹل کے کاروبار ہیں اور وہاں شراب بھی بکتی ہے۔چنانچہ جب میں نے ان کا سختی سے نوٹس لیا کہ آپ کو یہ کاروبار چھوڑنا ہو گا تو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بڑی بھاری تعداد ایسی تھی جنہوں نے اس کاروبار کو ترک کر دیا۔بعضوں کو خدا تعالیٰ نے فوراً بہتر کاروبار بھی عطا کیے بعضوں کو ابتلا میں بھی ڈالا۔وہ لمبے عرصے تک دوسرے کاروبار سے محروم رہے لیکن وہ پختگی کے ساتھ اپنے اس فیصلے پر قائم رہے۔“ مکرم (الفضل 17 جنوری 1989ء) رانا فیض بخش صاحب نون بیان کرتے ہیں: ” پہلے اسلام اور رسول اکرم صلی اللہ پر میرا ایمان رسمی تھا۔نماز بھی کبھی کبھار پڑھ لیتا تھا۔اب اسلام سے ،قرآن سے اور حضور اکر مصلی اللہ علیہ وسلم سے انتہائی محبت ہے اگر میری مجلس میں سارا دن ان کا ذکر ہوتا رہے تو فرحت اور خوشی محسوس ہوتی ہے۔دل اور روح سکون پاتے ہیں۔ایسی مجلس ڈھونڈنے کے لئے میں کوشاں رہتا ہوں۔سب سے بڑی نعمت یہ ملی ہے کہ خدا جو پوشیدہ تھا۔صرف رسمی اور عقلی دلائل سے خدا تعالیٰ کو تسلیم کرتا تھا اب اس خدا کی باتیں کئی بار سن چکا ہوں۔اس کی آواز ظاہری کانوں نے سنی ہے۔دعائیں کثرت سے سنتا اور قبول فرماتا ہے۔سچے خوابوں، کشف رؤیا، صالحہ اور الہام سے نوازتا رہتا ہے۔“ (عالمگیر برکات مامور زمانه از عبدالرحمن مبشر صاحب حصہ 2 صفحہ 291) ایک جرمن احمدی دوست کہتے ہیں کہ اگر ایک ہفتہ ایسا گزر جائے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں میری بدقسمت آنکھیں آنسو نہ بہائیں تو مجھے بڑی تکلیف پہنچتی ہے۔اور میں کہتا ہوں خاک ہے ان آنکھوں پر جو اللہ کی راہ میں نمناک نہیں ہوتیں اور پھر میرا دل اس غم سے ایسا بھر جاتا ہے کہ عشق خدا ابل ابل کر میری آنکھوں سے برسنے لگتا ہے۔(الفضل 31 دسمبر 1983ء) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں 100 سے زائد تربیتی اور روحانی تحریکات جاری فرمائیں۔نمازوں کا عشق جگایا، تہجد کیلئے بیدار کیا، قرآن کے معارف سنائے۔الہامات اور غیبی خبروں سے ایمانوں کو جلا بخشی، یہی وجہ تھی کہ جب 1923ء میں آپ رضی اللہ عنہ نے تحریک شدھی کے مقابلہ کیلئے 150 سرفروشوں کی تحریک کی تو 1500 خدام نے لبیک کہا جن 557