مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 542 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 542

حالانکہ اس کے برعکس بہت سے ایسے احمدی بھی ہیں جو اگرچہ اعتقادا پختہ ہوتے ہیں اور نظامِ جماعت سے ان کا بڑا گہرا اور سچا تعلق ہوتا ہے۔اور خلافت سے حقیقی تعلق رکھتے ہیں لیکن عملاً بہت سی ذاتی کمزوریاں ان میں پائی جاتی ہیں۔جب اس گروہ کے متعلق یا ان میں سے کسی فرد کے متعلق دعا کی جائے تو اللہ بسا اوقات محض اپنے پنے فضل سے اس دعا کو بڑی جلد قبول کر لیتا ہے۔یہ ایک ذاتی مشاہدہ ہے۔اس مختصر سے وقت میں یعنی جب سے میں مسندِ خلافت پر بٹھایا گیا ہوں جو میں نے ذاتی مشاہدے کئے اور جس رنگ میں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو نازل ہوتے دیکھا ہے۔اور بعض دعاؤں کو رڈ ہوتے پایا یہ میرا مشاہدہ ہے جو میں نے اختصار کے ساتھ آپ کے سامنے رکھ دیا ہے۔“ مشعل راہ جلد 2 صفحہ 621) حضرت خلیفہ لمسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَاسْمَعُوا وَاَطِيْعُوا وَأَنْفِقُوا خَيْرًا لانْفُسِكُمْ کہ جہاں تک ہو سکے اپنی طاقت، قوت اور استعداد کے مطابق تقوی کی راہوں پر چلتے رہو اور تقوی یہ ہے کہ وَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا (بخارى كتاب الجهاد والسير باب السمع والطاعة للامام) کہ اللہ تعالیٰ کی آواز سنو اور لبیک کہتے ہوئے اس کی اطاعت کرو۔اگر تم تقویٰ کی راہوں پر چل کر وَاسْمَعُوا وَاَطِيْعُوا کا نمونہ پیش کرو گے تو تمہیں اللہ تعالیٰ اس بات کی بھی توفیق دے گا اپنی جانوں، مالوں اور عزتوں سب کو اس کی راہ میں قربان کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ اس طرح تمہیں دل کے بخل سے محفوظ کر لیا جائے گا۔یہی کامیابی کا راز ہے۔اس نسخہ کو نبی کریم ملالہ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے خوب سمجھا اور پھر اس پر خوب عمل کیا دیکھو دنیا میں بھی انہیں ایسی کامیابی نصیب ہوئی کہ کسی اور قوم کو ویسی کامیابی نصیب نہیں ہوئی۔اور اسی زندگی میں ان کو آئندہ کے متعلق ایسی بشارتیں ملیں کہ کسی اور قوم کو ان کا حقدار قرار نہیں دیا گیا پھر اس نسخہ کو حضرت مسیح موعود کی جماعت نے سمجھا اور اس کے مطابق عمل کر کے حقیقی کامیابی اور فلاح کے حصول کے لئے جدوجہد کی اور کر رہی ہے اور آئندہ بھی اسی راہ پر گامزن رہے گی۔انشاء اللہ (خطبات ناصر جلد 1 صفحہ 244 245۔خطبہ جمعہ 6 مئی 1966ء) حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ان امور پر میں کئی دفعہ خطبات دے چکا ہوں لیکن پھر بار بار یہ باتیں سامنے آتی ہیں کیونکہ لوگ سمجھتے ہیں معمولی باتیں ہیں کیا فرق پڑا اگر ہم نے چپکے سے فلاں کی بات سن لی؟ ساتھ ساتھ اپنی دانست میں خلیفہ وقت کی حفاظت بھی کر لی۔کہہ دیا کہ ہاں ہاں کسی کی باتوں میں آ گیا ہو گا خود تو اپنی ذات میں شریف آدمی لگتا ہے، خود تو جھوٹا اور غیر منصف نظر نہیں آتا اس لئے ضرور باتوں میں آ گیا ہو گا یعنی غیر منصف بھی قرار دے دیا اور ساتھ ہی بے وقوف بھی قرار دے دیا۔اچھا دفاع کیا ہے خلیفہ وقت کا۔یعنی پہلے تو صرف ظالم کہا تھا آپ نے کہا کہ ظالم صرف نہیں ہے، احمق بھی بڑا سخت ہے اس کو چغلیوں کی بھی عادت ہے یک طرفہ باتیں سنتا ہے اور فیصلے دیتا چلا جاتا ہے۔حسن ظنی میں میں کہتا ہوں کہ آپ نے اپنی طرف سے دفاع کیا لیکن یہ کیا دفاع ہے؟ اس پر تو غالب کا یہ مصرع آپ پر صادق آتا ہے کہ: ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسمان کیوں ہو اگر آپ نے خلافت کا ایسا ہی دفاع کرتا ہے آپ کے یہی عزم تھے جب آپ نے عہد کئے تھے کہ ہم قیامت تک اپنی نسلوں کو بھی یہ یاد دلاتے رہیں گے کہ تم نے خلافت احمدیہ کی حفاظت کرنی ہے اور اس کے لئے ہر 542