مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 53 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 53

( تاریخ الخلفاء۔صفحہ 339۔ترجمہ:۔علامہ شمس بریلوی) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں جب فسادیوں نے مدینہ پر قبضہ کی لیا۔چنانچہ یہ لوگ مسلسل ہیں دن تک صرف زبانی طور پر کوشش کرتے رہے کہ کسی طرح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ خلافت سے دست بردار ہو جائیں مگر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس امر سے صاف انکار کر دیا اور فرمایا کہ جو قمیص مجھے اللہ تعالیٰ نے پہنائی ہے میں اسے اتار نہیں سکتا اور نہ امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بے پناہ چھوڑ سکتا ہوں کہ جس کا جی چاہے دوسرے پر ظلم کرے۔(طبری جلد 8 صفحہ 2990 مطبوعہ بیروت) اور ان لوگوں کو بھی سمجھاتے رہے کہ اس فساد سے باز آجاویں اور فرماتے رہے کہ آج یہ لوگ فساد کرتے ہیں اور میری زندگی سے بیزار ہیں مگر جب میں نہ رہوں گا تو خواہش کریں گے کہ کاش! عثمان رضی اللہ عنہ کی عمر کا ایک ایک دن سے بدل جاتا اور وہ ہم سے جلدی رخصت نہ ہوتا کیونکہ میرے بعد سخت خون ریزی ہوگی اور حقوق کا اتلاف ہو گا اور انتظام کچھ کا کچھ بدل جائے گا۔(انوار العلوم جلد نمبر 4 صفحہ 253) کارنامے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے کارناموں میں مسجد نبوی کی تعمیر و توسیع ہمدردی خلق، عدل و انصاف نمایاں ہیں۔1) مسجد نبوی کی تعمیر و توسیع : سیر الصحابہ میں لکھا ہے: مسجد نبوی کی تعمیر و توسیع میں حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کا ہاتھ سب سے زیادہ نمایاں ہے۔عہد نبوی میں جب مسلمانوں کی کثرت کے باعث مسجد کی وسعت ناکافی ثابت ہوئی تھی تو اس کی توسیع کے لئے حضرت عثمان نے قریب کا قطعہ زمین خرید کر بارگاہِ نبوت میں پیش کیا تھا، پھر اپنے عہد میں بڑے اہتمام سے اس کی توسیع اور شاندار عمارت تعمیر کروائی۔سب سے اول 24ھ میں اس کا ارادہ کیا لیکن مسجد کے گرد و پیش ، جن لوگوں کے مکانات تھے وہ کافی معاوضہ دینے پر بھی مسجد نبوی کی قربت کے شرف سے دست کش ہونے کے لیے راضی نہ ہوتے۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو راضی کر نے کے لئے مختلف تدبیریں کیں لیکن وہ کسی طرح راضی نہ ہوئے یہاں تک کہ پانچ سال اس میں گزر گئے۔بالآخر 29ھ میں حضرت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مشورہ کرنے کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے روز ایک نہایت ہی مؤثر تقریر کی اور نمازیوں کی کثرت اور مسجد کی تنگی کی طرف توجہ دلائی۔اس تقریر کا اثر یہ ہوا کہ لوگوں نے سے اپنے مکانات دے دیئے اور آپ رضی اللہ عنہ نے نہایت اہتمام کے ساتھ تعمیر کا کام شروع کیا۔نگرانی کے لیے تمام عمال طلب کئے اور خود شب و روز مصروف کار رہتے تھے۔غرض دس مہینوں کی مسلسل جدوجہد کے بعد اینٹ، چونے اور پتھر کی ایک نہایت خوش نما اور مستحکم عمارت تیار ہو گئی، وسعت میں بھی کافی اضافہ ہو گیا یعنی طول میں پچاس گز کا اضافہ ہوا، البتہ عرض میں کوئی تغیر نہیں کیا گیا۔“ خوشی سیر صحابہ جلد 1 - صفحہ 228 تا 229) 53