مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 521 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 521

وو (جلسہ سالانہ یو کے 2004 اختتامی خطاب الفضل انٹرنیشنل 29 جولائی تا 11 اگست 2005 ) حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے بعض تجاویز کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: بہت سے لوگوں کی طرف سے یہ تجویز بھی آئی ہیں کہ 2008 ء میں خلافت کو بھی سو سال پورے ہو جائیں گے اس وقت خلافت کی بھی سو سالہ جو بلی منانی چاہئے تو بہر حال وہ تو ایک کمیٹی کام کررہی ہے۔وہ کیا کرتے ہیں؟ رپورٹس دیں گے تو پتہ لگے گا۔لیکن میری یہ خواہش ہے کہ 2008 ء میں خلافت کو قائم ہوئے انشاء اللہ تعالیٰ سو سال ہو جائیں گے تو دنیا کے ہر ملک میں ، ہر جماعت میں جو کمانے والے افراد ہیں جو چندہ دہند ہیں ان میں سے کم از کم پچاس فیصد تو ایسے ہوں جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے اس عظیم الشان نظام میں شامل ہو چکے ہوں اور روحانیت کو بڑھانے کے اور قربانیوں کے یہ اعلیٰ معیار قائم کرنے والے بن چکے ہوں اور یہ بھی جماعت کی طرف سے اللہ تعالیٰ کے حضور ایک حقیر سا نذرانہ ہو گا جو جماعت خلافت کے سو سال پورے ہونے پر شکرانے کے طور پر اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کر رہی ہو گی اور اس میں جیسا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے ایسے لوگ شامل ہونے چاہئیں جو انجام بالخیر کی فکر کرنے والے اور عبادات بجا لانے والے ہیں۔“ (جلسہ سالانہ یو کے۔یکم اگست 2004 ، اختتامی خطاب الفضل انٹرنیشنل 20 تا 26 اگست 2004 ) پھر فرمایا: ” پس غور کریں فکر کریں جو سستیاں، کو تاہیاں ہو چکی ہیں ان پر استغفار کرتے ہوئے اور حضرت مسیح موعود السلام کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے جلد از جلد اس نظام وصیت میں شامل ہو جائیں اور اپنے آپ کو بھی بچائیں اور اپنی نسلوں کو بھی بچائیں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے بھی حصہ پائیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق علیہ عطا فرمائے۔“ (جلسہ سالانہ یو کے یکم اگست 2004 ء ، اختتامی خطاب - الفضل انٹر نیشنل 10 تا 16 دسمبر 2004 ء) حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ کا پیش کردہ نظام نو: حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نظام نو کی ضرورت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ضرورت ہے کہ اس موجودہ دور میں اسلامی تعلیم کا نفاذ ایسی صورت میں کیا جائے کہ وہ نقائص بھی پیدا نہ ہوں جو ان دنیوی تحریکوں میں ہیں اور اس قدر روپیہ بھی اسلامی نظام کے ہاتھ میں آجائے جو موجودہ زمانہ کی ضرورتوں کے لحاظ سے مساوات کو قائم رکھنے اور سب لوگوں کی حاجات کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہے۔“ دو (نظام نوصفحه 113 ) حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ دنیا کے لیے نئے نظام کی ضرورت کو انبیاء سے وابستہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔نئے نظام وہی لاتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں مبعوث کئے جاتے ہیں جن کے دلوں میں نہ امیر کی دشمنی ہوتی ہے نہ غریب کی بے جا محبت ہوتی ہے جو نہ مشرقی ہوتے ہیں نہ مغربی۔وہ خدا تعالیٰ کے پیغامبر ہوتے ہیں اور وہی تعلیم پیش کرتے ہیں جو امن قائم کرنے کا حقیقی ذریعہ ہوتی ہے۔پس آج وہی تعلیم 521