مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 522
امن قائم کرے گی جو حضرت مسیح موعود کے ذریعہ آئی ہے اور جس کی بنیاد الوصیۃ کے ذریعہ 1905ء میں رکھ دی گئی ہے۔“ اسلامی نظام کی تشریح کرتے ہوئے حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: المسيح اسلامی سکیم کے اہم اصول یہ ہیں:۔(نظام نو صفحه 131 ) اول : سب انسانوں کی ضرورتوں کو پور اکیا جائے، دوم : مگر اس کام کو پورا کرتے وقت انفرادیت اور عائلی زندگی کے لطیف جذبات کو تباہ نہ ہونے دیا جائے، تیسرے: چوتھے : به کام مالداروں سے طوعی طور پر لیا جائے اور جبر سے کام نہ لیا جائے، یہ نظام ملکی نہ ہو بلکہ بین الاقوامی ہو۔آج کل جس قدر تحریکات جاری ہیں وہ سب کی سب ملکی ہیں مگر اسلام نے وہ تحریک پیش کی ہے جو ملکی نہیں بلکہ بین الاقوامی ہے۔اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان چاروں مقاصد کو اس زمانہ کے مامور، نائب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ کے حکم سے کس طرح پورا کیا اور کس طرح اسلامی تعلیم کے عین مطابق دنیا کے ایک نئے نظام کی بنیاد رکھ دی۔یہ بالشوزم، سوشلزم اور نیشنل سوشلزم کی تحریکیں سب جنگ کے بعد کی پیدائش ہیں۔ہٹلر جنگ کے بعد کی پیدائش ہے، مسولینی جنگ کے بعد کی پیدائش ہے اور سٹالن جنگ کے بعد کی پیدائش ہے۔غرض یہ ساری تحریکیں جو دنیا میں ایک نیا نظام قائم کرنے کی دعویدار ہیں 1919ء اور 1921ء کے گرد چکر لگا رہی ہیں لیکن خدا تعالیٰ کے مامور نے نئے نظام کی بنیاد 1905 ء رکھ دی تھی اور وہ الوصیت“ کے ذریعہ رکھی تھی۔“ (نظام نو صفحه 115 ) نظام وصیت میں شامل ہونے کے مذہبی فوائد: حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نظام وصیت میں شامل ہونے کے مذہبی فوائد بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اگر اسلامی حکومت نے ساری دنیا کو کھانا کھلانا، ساری دنیا کو کپڑے پہنانا ہے، ساری دنیا کی رہائش کے لئے مکانات کا انتظام کرنا ہے، ساری دنیا کی بیماریوں کے لئے علاج کا انتظام کرنا ہے، ساری دنیا کی جہالت کو دور کرنے کے لئے تعلیم کا انتظام کرنا ہے تو یقیناً حکومت کے ہاتھ میں اس سے بہت زیادہ روپیہ ہونا چاہئے جتنا پہلے زمانہ میں ہوا کرتا تھا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت اعلان فرمایا کہ اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے ان لوگوں کے لیے جو حقیقی جنت حاصل کرنا چاہتے ہیں یہ انتظام فرمایا ہے کہ وہ اپنی خوشی سے اپنے مال کے کم سے کم دسویں حصہ کی اور زیادہ سے زیادہ تیسرے حصہ کی وصیت کر دیں اور آپ فرماتے ہیں ان وصایا سے جو آمد ہوگی وہ ترقی اسلام اور اشاعت علم قرآن و کتب دینیہ اور اس سلسلہ کے واعظوں کے لئے “ خرچ ہو گی۔شرط نمبر 2 اسی طرح ہر ایک امر جو مصالح اشاعتِ اسلام میں داخل ہے جس کی اب تفصیل کرنا قبل از وقت ہے وہ تمام امور ان اموال سے انجام پذیر ہوں گے۔یعنی اسلام کی تعلیم کو دنیا میں قائم اور راسخ کرنے کے لئے جس قدر امور ضروری ہیں اور جن کی تعبیر کرنا قبل از وقت ہے ہاں اپنے زمانہ میں کوئی اور : 522