مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 51 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 51

تاریخ الخلفا میں لکھا ہے کہ: ”حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب بیعت رضوان ہوئی تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جانب سے مکہ معظمہ میں ایلچی بن کر گئے۔یہاں لوگوں نے رسول اللہ سے بیعت رضوان کی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چونکہ عثمان (رضی اللہ عنہ ( اللہ اور اس کے رسول کے کام کے لیے گئے ہوئے ہیں۔لہذا میں خود ان کی طرف سے بیعت کرتا ہوں۔یہ ارشاد فرما کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مارا اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا دست مبارک تمام لوگوں کے ہاتھوں اور جانوں سے کس قدر افضل و برتر ہے۔“ ( تاریخ الخلفاء - صفحه 339۔ترجمہ علامہ شمس بریلوی) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نظر میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا مقام: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تصنیف لطیف سر الخلافہ میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے اوصاف بیان فرمائے ان کا ترجمہ پیش خدمت ہے: میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے شیخین (حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ۔ناقل) اور ذوالنورین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اسلام کے دروازے بنایا ہے، وہ لشکرِ خیر الانام (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ہراول دستے ہیں جو ان کی شان کا انکار کرتا اور ان کے واضح نشانات کی تحقیر کرتا ہے اور ادب سے آنے کی بجائے ان کی اہانت کے در پے ہوتا ہے اور زبان طعن دراز کرتے ہوئے سب وشتم سے پیش آتا ہے، میں ڈرتا ہوں کہ کہیں اس کا انجام برا نہ ہو اور ایسے شخص کا ایمان سلب نہ ہو جائے۔“ اشاعت اسلام: تحریف شام، پیش (سر الخلافہ روحانی خزائن جلد نمبر 8 صفحہ 327 - ترجمه از رساله خالد خلافت نمبر مئی 1960 - صفحہ 6) اشاعت اسلام کے حوالے سے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی کوششوں کے بارے میں سیر الصحابہ میں لکھا ہے کہ: ”مذہبی خدمات کے سلسلہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا سب سے زیادہ روشن کارنامه قرآن مجید کو اختلاف و سے محفوظ کرنا اور اس کی عام اشاعت ہے، اس کی تفصیل یہ ہے کہ آرمینیہ اور آذر بائیجان کی مہم میں مصر، عراق وغیرہ مختلف ملکوں کی فوجیں مجمع تھیں جن میں زیادہ تر نو مسلم اور عجمی النسل تھے جن کی مادری زبان عربی نہ تھی، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بن یمان بھی شریک جہاد تھے انہوں نے دیکھا کہ اختلاف قرأت کا یہ حال ہے کہ اہل شام کی قرآت، اہل عراق سے بالکل جدا گانہ ہے اسی طرح اہل بصرہ کی قرآت اہل کوفہ سے مختلف ہے اور ہر ایک اپنے ملک کی قرآت صحیح اور دوسرے کی غلط سمجھتا ہے۔حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو اس اختلاف سے اس قدر خلجان ہوا کہ جہاد سے واپس ہوئے تو سیدھے بارگاہِ خلافت میں حاضر ہوئے اور مفصل واقعات عرض کر کے کہا: ”امیر المومنین! اگر جلد اس کی اصلاح کی فکر نہ ہوئی تو مسلمان عیسائیوں اور رومیوں کی طرح خدا کی کتاب میں شدید اختلاف پیدا کر لیں گے۔“ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے توجہ دلانے پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بھی خیال ہوا اور انہوں نے اُمّ المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے عہد صدیقی کا مرتب و مدون کیا ہوا نسخہ لے کر حضرت زید رضی اللہ عنہ بن ثابت، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما 51