مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 501 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 501

سالانہ مجلس مشاورت کا نظام قائم فرمایا۔“ (سوانح فضل عمر جلد 2 صفحہ 176,175 ) مجلس شوری کا قیام: حضرت خلیفہ امسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے جہاں صدر انجمن احمدیہ کے انتظام میں اصلاح کی ضرورت کو محسوس کیا۔وہاں اللہ آپ رضی اللہ عنہ کو اس ضرورت کا بھی احساس پیدا ہوار کہ اہم ملی امور میں جماعت سے مشورہ لینے کے لئے کوئی زیادہ مناسب اور زیادہ منظم صورت ہونی چاہئے۔چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے وسط اپریل 1922ء میں مستقل طور پر مجلس شوری کی بنیاد رکھی۔مجلس شوریٰ کے قیام سے گویا جماعتی نظام کا ابتدائی ڈھانچہ مکمل ہو گیا یعنی سب سے اوپر خلیفہ وقت ہے جو گویا پورے نظام کا مرکزی نقطہ ہے۔اس سے نیچے ایک طرف مجلس شوریٰ ہے اور اہم اور ضروری اُمور میں خلیفہ وقت کے حضور اپنا مشورہ پیش کرتی ہے اور دوسری طرف اس کے متوازی صدر انجمن احمد یہ ہے جسے نظارتوں کے انتظامی صیغہ جات چلانے کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔جماعت احمدیہ کی پہلی مجلس شوری 15-16 اپریل 1922ء کو تعلیم الاسلام ہائی سکول (قادیان) کے ہال میں منعقد ہوئی اور اس میں 52 بیرونی اور 30 مرکزی نمائندوں نے شرکت کی۔ہال کی شمالی جانب حضرت خلیفۃ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے لئے میز اور کرسی بچھائی گئی تھی اور سامنے نصف دائرہ کی شکل میں نمائندے کرسیوں پر بیٹھے تھے ساڑھے نو بجے صبح کے قریب حضور حضرت خلیفة أسیح الثانی رضی اللہ عنہ) نے افتتاحی تقریر فرمائی جو بارہ بجے تک جاری رہی یہ چونکہ اپنی نوعیت کی پہلی مجلس شوری تھی اس لئے حضور نے تفصیل کے ساتھ اس کی ضرورت واہمیت اور اس کے طریق کار پر روشنی ڈالی اور نمائندگان کو متعدد اہم ہدایات دیں جو ہمیشہ کے لیے مشعل راہ ہیں۔مجلس شوری کا طریق: -2 تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 296 ) ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے شوری کا طریق کار بیان کرتے ہوئے فرمایا: 1۔خلیفہ عام ہدایات پیش کرے گا کہ کن باتوں پر مشورہ لینا ہے اور کن باتوں کا خیال رکھنا اس کے بعد ہر محکمہ کے لئے سب کمیٹیاں مقرر ہو جائیں گی کیونکہ فوراً رائے نہیں دینی چاہئے بلکہ تجربہ کار بیٹھ کر سکیم تجویز کریں اور پھر اس پر بحث ہو۔پہلے کمیٹی ضرور ہونی چاہئے جیسے معاملات ہوں ان کے مطابق وہ غور کریں۔سکیم بنائیں پھر اس پر غور کی جائے۔کمیٹی پوری تفاصیل پر بحث کرے اور پھر رپورٹ کرے۔وہ تجاویز مجلسِ عام میں پیش کی جائیں اور ان پر گفتگو ہو۔جب تجاویز پیش ہوں تو موقع دیا جائے کہ لوگ اپنے خیالات پیش کریں کہ اس میں یہ زیادتی کرنی چاہیے یا یہ کی کرنی چاہیے یا اس کو یوں ہونا چاہیے۔تینوں میں سے جو کہنا چاہے کھڑے ہو کر پیش کر دے۔ان تینوں باتوں کے متعلق جس قدر تجاویز ہوں ایک شخص یا بہت سے لکھتے جائیں پھر ایک طریق یا ایک طرز کی باتوں کو لے کر پیش کیا جائے کہ فلاں یہ کمی چاہتا ہے اور فلاں یہ زیادتی۔اس پر بحث ہو مگر ذاتیات کا ذکر نہ آئے۔اس بحث کو بھی لکھتے جائیں۔جب بحث ختم ہو جائے تو وہ اس وقت یا بعد خلیفہ بیان کر دے، کہ یہ -3 کمی 501