مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 487 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 487

ایک الگ نوعیت کی ذلت کا عکاس ہے۔ذلتوں کے اس ہار میں سے کچھ پیش خدمت ہے: نہیں۔“ (1 محمد یار شاہد جو منظور چنیوٹی کا دست راست اور عقیدت مند تھا وہ ان کے بارے میں کہتا ہے: اگر اس قسم کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے گئے تو میں اہم انکشافات کروں گا جس سے ان پردہ نشینوں کے اصل کرتوتوں سے شہریوں کو آگاہی ہو گی۔۔۔۔۔۔اور ہم عنقریب ایک پریس کانفرنس میں دستاویزی ثبوت فراہم کریں گے کہ اسلام کے یہ نام لیوا در پردہ کیا ہیں؟“ (2۔(ڈیلی بزنس رپورٹ فیصل آباد 26 ستمبر 1988) قاری یا مین گوہر نے چنیوٹ میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا مولوی منظور چنیوٹی ان دونوں تنظیموں میں سے کسی کے کارکن یا مبلغ نہیں لیکن اس شخص نے محض چندہ بٹورنے کے لیے اپنے اوپر مبلغ ختم نبوت کا لیبل لگایا ہوا ہے اس پر طرہ یہ کہ اس نے بعض مسلمانوں کے خلاف فتویٰ لگا کر علمائے اسلام کے خلاف نفرت کا بیج بویا۔“ (3 مولانا اللہ یار ارشد کا بیان: ”مولانا منظور چنیوٹی نے ختم نبوت کے نام کو بیچ کر قوم سے ووٹ حاصل کئے اور پنجاب اسمبلی میں جا کر جو مذموم کردار ادا کیا وہ پوری ملت اسلامیہ کے لئے رُسوائی کا سبب بنا۔مولانا نے کہا: جھوٹ اس کا مشن دھوکہ اس کا پیشہ ہے اور صوبائی اسمبلی میں معافی مانگ کر اس شخص نے ختم نبوت کے پروانوں کے سر جھکا دیئے 66 ہیں۔" (4) ہے، (روز نامه حیدر راولپنڈی یکم نومبر 1988ء) مولوی منظور چنیوٹی کا غیر شریفانہ رویہ، ملک کے نامور شاعر اور دانشور علامہ سید محسن نقوی کے کہا: مولانا چنیوٹی اپنے علاقے میں مذہبی منافرت پھیلا نے اور فرقہ ورانہ تعصب کے زہر سے فضا کو مکدر کرنے میں ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں۔علامہ محسن نقوی نے مطالبہ کیا کہ منظور چنیوٹی کو اس کے غیر شریفانہ رویہ کی بنا پر اسمبلی کی رکنیت سے خارج کیا جائے۔“ 5) پاکستان علما کونسل نے کہا کہ: (5 دو (6 (روز نامه مساوات 23 دسمبر 1988ء) مولوی منظور چنیوٹی عملاً اسمبلی کی رکنیت کھو چکے ہیں اب وہ صرف چنیوٹ کے کھال فروش قصاب کے سوا کچھ بھی (روزنامہ مساوات 29 اپریل 1989 ء) پنجاب اسمبلی کے 27 مئی 1989 کے اجلاس میں مولوی صاحب کے بارے میں اراکین اسمبلی نے جو مختلف تبصرے کئے وہ مولوی صاحب کی ذلتوں کے عکاس ہیں: (1 (2 انہیں مولانا کہتے رہے۔(3 وہ ایک مسلمان کو کافر کہہ کر خود کافر ہو گئے ہیں، ان کو مولا نا نہیں کہا جا سکتا یہ ایک عالم دین کی توہین ہے، ایک ممبر نے کہا اصل میں ہم لاعلمی میں مولانا کے ایمان کی کمزوری درست کی جائے، (4) منظور چنیوٹی بلیک میلر ہے، (5 منظور چنیوٹی کا نکاح ٹوٹ گیا۔اگر ان کا نکاح ٹوٹ گیا تو ان کی اولاد کیا کہلائے گی؟ 487