مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 488
(6 (7 (8 (9 (10 ان کو کوڑے لگائے جائیں، کوڑے نہیں اسلام میں دُروں کی سزا ہے، بقیہ اجلاس کیلئے ان کا داخلہ ایوان میں روک دیا جائے، مولانا کی زبان پر کنٹرول کیا جائے ورنہ خود ہی کر سکتے ہیں، مولانا کو معافی مانگنی چاہیے ورنہ لوگ انہیں فتوی فروشی کا الزام دیں گے، آخر میں مولانا نے ایوان سے معافی مانگ لی۔(فتح مباہلہ یاذلتوں کی مارصفحہ 22) (11) آخر پر آئیے دیکھتے ہیں کہ چنیوٹ کے باسی مولانا کے بارے میں کیا کہتے ہیں: روزنامہ امروز 7 جولائی 1989 ء میں چنیوٹ کے شہریوں کی قرارداد درج ہے جس میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ: مولانا چنیوٹی کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دیا جائے۔“ ان حقیقوں کے آئینہ میں ذرا مولوی صاحب کو پکاریں تو یہ پکارتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ ”میرا قاضی میری ذلتوں کے سوا کچھ بھی نہیں۔“ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”ہر ایک نے جو مجھ سے مباہلہ کیا آخر کار خدا نے یا تو اسے ہلاک کیا اور یا ذلت اور تنگی معاش کی زندگی اس کو نصیب ہوئی یا اس کی قطع نسل کی گئی اور ہر ایک جو میری موت چاہتا رہا اور بد زبانی کی آخر وہ آپ ہی مر گیا اور اتنے نشان خدا نے میری تائید میں دکھلائے کہ وہ شمار سے باہر ہیں۔اب کوئی خدا ترس جس کے دل میں خدا کی عظمت ہے اور کوئی دانشمند جس کو کچھ حیا اور شرم ہے یہ بتلا دے کہ کیا یہ امر خدا تعالیٰ کی سنت میں داخل ہے کہ ایک شخص جس کو وہ جانتا ہے کہ وہ مفتری ہے اور خدا تعالیٰ پر جھوٹ بولتا ہے اس سے خدا تعالیٰ یہ معاملات کرے؟ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جب سلسلہ الہامات کا شروع ہوا تو اس زمانہ میں میں جوان تھا اب میں بوڑھا ہوا اور ستر سال کے قریب عمر پہنچ گئی اور اس زمانہ پر قریباً پینتیس سال گزر گئے مگر میرا خدا ایک دن بھی مجھ سے علیحدہ نہیں ہوا۔اس نے اپنی پیشین گوئیوں کے مطابق ایک دنیا کو میری طرف جھکا دیا۔میں مفلس اور نادار تھا، اس نے لاکھوں روپے مجھے عطا کئے اور ایک زمانہ دراز فتوحات مالی پہلے مجھے خبر دی اور ہر ایک مباہلہ میں مجھ کو فتح دی اور صدہا میری دعائیں منظور کیں اور مجھ کو وہ نعمتیں دیں کہ میں شمار نہیں کر سکتا۔پس کیا یہ ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ اس قدر فضل اور احسان ایک شخص پر کرے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ اس پر افترا کرتا ہے جبکہ میں میرے مخالفوں کی رائے میں تھیں بہتیس برس سے خدا تعالیٰ پر افترا کر رہا ہوں اور ہر روز رات کو اپنی طرف سے ایک کلام بناتا ہوں اور صبح کہتا ہوں کہ یہ خدا کا کلام ہے اور پھر اس کی پاداش میں خدا تعالیٰ کا مجھ سے یہ معاملہ ہے کہ وہ جو اپنے زعم میں مومن کہلاتے ہیں ان پر مجھے فتح دیتا ہے اور مباہلہ کے وقت میں ان کو میرے مقابل پر ہلاک کرتا ہے یا ذلت کی مار سے پامال کر دیتا ہے۔‘“ سے (حقیقة الوحی روحانی خزائن جلد نمبر 22 صفحہ 461) 488