مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 480
آخر وہی ہوا جو حضرت امیرالمؤمنین حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے پہلے الثانی رضی اللہ عنہ نے پہلے سے ہی فرما دیا تھا۔مولوی محمد علی صاحب موصوف نہ مباہلہ کے لیے آمادہ ہوئے اور نہ اپنا جھوٹا الزام واپس لینے کو تیار ہوئے۔( تاریخ احمدیت جلد نمبر 10 صفحہ 181) حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چیلنج کا اعادہ 1967ء کے دورہ یورپ کے دوران حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ نے فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ چیلنج آج بھی قائم ہے اور میں اس بات کا آج بھی اعادہ کرتا ہوں کہ رومن کیتھولک اور عیسائیوں کے دوسرے فرقوں کے سربراہ اس چیلنج کو قبول کریں اور اسلام اور عیسائیت کی سچائی کا فیصلہ کریں۔“ حیات ناصر جلد نمبر 1 صفحہ 473) حضرت خلیفة المسیح الثالث رحمہ اللہ نے اس چیلنج کے متعلق مزید فرمایا: اس چیلنج کو دیئے پچاس ساتھ سال ہو چکے ہیں اور اس چیلنج کے قبول کرنے والے کو حضور علیہ السلام نے پانچ سو روپے دینے کا وعدہ بھی کیا لیکن کسی عیسائی کو جرات نہیں ہوئی کہ وہ اس چیلنج کو قبول کرے۔۔۔۔اور اب میں نے پانچ سو روپے سے بڑھا کر انعام کی رقم پچاس ہزار روپے کر دی ہے۔“ (خطبات ناصر جلد 1 صفحہ 475-474) حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے دجال کے مرکز یورپ میں جا کر مسیحیوں کو میدان میں آنے کیلئے للکارا اور فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وہ چیلنجز آج بھی قائم ہیں جو آپ علیہ السلام نے اپنے زمانہ میں مسیحیوں کو دیئے تھے اور تمہارے لئے انعامات حاصل کرنے کے مواقع اب بھی موجود ہیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ سے لے کر آج تک کسی پادری کو اس چیلنج کو قبول کرنے کی جرات نہ ہوئی اور یکسر الصلیب کی پیشگوئی ایک نئے انداز سے پوری ہوئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چیلنج کے الفاظ یہ ہیں: سو توریت اور انجیل قرآن کا کیا مقابلہ کریں گی؟ اگر صرف قرآن شریف کی پہلی سورت کے ساتھ ہی مقابلہ کرنا چاہیں یعنی سورہ فاتحہ کے ساتھ جو فقط سات آیتیں ہیں اور جس ترتیب انسب اور ترکیب محکم اور نظام فطرتی سے اس سورۃ میں صد با حقائق اور معارف دینیہ اور روحانی حکمتیں درج ہیں ان کو موسیٰ کی کتاب یا یسوع کے چند ورق انجیل سے نکالنا چاہیں تو گو ساری عمر کوشش کریں تب بھی یہ کوشش لا حاصل ہو گی اور یہ بات لاف گزاف نہیں بلکہ واقعی اور حقیقی یہی بات ہے کہ توریت اور انجیل کو علوم حکمیہ میں سورۃ فاتحہ کے ساتھ بھی مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں۔ہم کیا کریں اور کیونکر فیصلہ ہو۔پادری صاحبان ہماری کوئی بھی بات نہیں مانتے۔بھلا اگر وہ اپنی توریت یا انجیل کو معارف اور حقائق کے بیان کرنے اور خاص کلام الوہیت ظاہر کرنے میں کامل سمجھتے ہیں تو ہم بطور انعام پانسو روپیہ نقد ان کو دینے کے لئے طیار ہیں۔اگر وہ اپنی کل ضخیم کتابوں سے جو ستر (70) کے قریب ہوں گی، وہ حقائق اور معارف شریعت اور مرتب اور منتظم در حکمت و جواہر معرفت و خواص کلام الوہیت دکھلا سکیں جو سورۃ فاتحہ میں سے ہم پیش کریں اور اگر یہ روپیہ تھوڑا ہو تو جس قدر ہمارے 480