مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 476
پیرو کار دن بدن کم ہوتے جا رہے تھے اور اب ان کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے تو وہ لوگ جلد حضور کا یہ چیلنج کیسے قبول کر سکتے تھے؟ (10) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی طرف سے مستریوں کو مباہلہ کا چیلنج : دسمبر 1927 میں جماعت احمدیہ میں ایک اندرونی فتنہ نے جنم لیا جو فتنہ مستریاں کے نام سے مشہور ہے اس کے بانی کا نام عبدالکریم مستری تھا اور اس فتنہ کی مکمل پشت پنا ہی لاہوری کر رہے تھے مستریوں نے قادیان سے ایک اخبار ”مباہلہ نکالنا شروع کیا جس میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی ذات بابرکات پر نہایت ہی غلیظ ، شرمناک اور ظالمانہ حملے کئے جاتے تھے۔حضور رضی اللہ عنہ کی ذات پر الزام لگانے کے ساتھ وہ اس بات کا بھی اعلان کر رہے تھے اگر یہ الزامات درست نہیں تو مرزا محمود ساتھ مباہلہ کر لیں اس کا جواب دیتے ہوئے اخبار 'جواب مباہلہ میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے ایک نوٹ لکھا ہمارے جس میں آپ نے فرمایا۔اس قسم کے امور کے لیے جن کے متعلق حدود مقرر ہیں اور گواہی کے خاص طریق مذکورہ ہیں مباہلہ چھوڑ کر بھی جائز نہیں مجھے یہ کامل یقین ہے کہ ایسے امور کے متعلق مباہلہ کا مطالبہ کرنا یا ایسے مطالبے کو منظور کرنا ہرگز درست نہیں بلکہ شریعت کی حد تک ہے اور میں ہر مذہبی جماعت کے لیڈر یا مقتدر اصحاب سے جو اس امر کا انکار کریں مباہلہ کرنے کے لئے تیار ہوں اگر مولوی صاحب (محمد علی) یا ان کے ساتھی جو ” مباہلہ کی اشاعت میں یا اس قسم کے اشتہارات کی اشاعت میں حصہ لے رہے ہیں مجھ سے متفق نہیں اور ان کا یقین ہے کہ جو شخص ایسے مطالبہ کو منظور نہیں کرتا وہ گویا اپنے جرم کا ثبوت دیتا ہے تو ان کو چاہیے کہ اس امر پر مجھ سے مباہلہ کر لیں پھر اللہ تعالیٰ حق و باطل میں خود فرق کر دے گا۔“ (اخبار جواب مباہلہ بحوله تاریخ احمدیت جلد نمبر 5 صفحہ 147) حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے اس باطل شکن اور پر شوکت اعلان کا مستریوں کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا۔مستریوں پر مزید اتمام حجت کے لیے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے متعلق دعوت مباہلہ دیتے ہوئے فرمایا: میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جس کے ہاتھوں میں میری جان ہے اور جس کے ہاتھ میں جزا سزا اور ذلت اور عزت ہے کہ میں اس کا مقرر کردہ خلیفہ ہوں اور جو لوگ میرے مقابل پر کھڑے ہیں اور مجھ سے مباہلہ کا مطالبہ کرتے ہیں وہ اس کی مرضی اور قانون کے خلاف کام کر رہے ہیں اگر میں اس امر میں دھوکہ سے کام لیتا ہوں تو اے خدا! تو اپنے نشان کے ساتھ صداقت کا اظہار فرما۔اب جس شخص کو دعوئی ہو کہ وہ اس رنگ میں میرے مقابل پر آنے میں حق بجانب ہے وہ بھی قسم کھالے۔اللہ تعالیٰ خود فیصلہ کر دے گا۔“ (اخبار جواب مباہلہ بحوالہ غلبہ حق صفحہ 203 از قاضی محمد نزیر صاحب) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی طرف سے دیئے جانے والے مباہلے کے دونوں چیلنج کسی کو قبول کرنے کی جرأت نہ ہو ئی اور ان لوگوں کو خدا کے پیارے کو تنگ کرنے اور مباہلہ کی ذلت اس طرح نصیب ہوئی کہ پہلے تو قادیان کی مقدس بستی کو چھوڑ کر چلے گئے اور بٹالہ میں مقیم ہو گئے لیکن مَالَهُ مِنْ قَرَارِ کے مصداق وہاں سے اٹھے اور امرت سر آ گئے اور آخر کار حکومت وقت نے حکومت کے خلاف کام کرنے کی وجہ سے ان کے سر گردہ لوگوں کو گرفتار کر لیا گیا اور ان کے یہ اخبار وغیرہ بند ہو گئے۔11 حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے احرار کو مباہلہ کے چیلنج اور ان کا انجام 476