مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 468
468 آیت فَمَنْ حَاجَّكَ فِيْهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَانَنَا وَ أَبْنَاءَ كُمْ وَنِسَاءَ نَا وَ نَسَاءَ كُمُ وَانْفُسَنَا وَأَنفُسَكُمْ مَن ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكَذِبِينَ۔(سوره ال عمران:62) پس جو تجھ سے اس بارے میں اس کے بعد بھی جھگڑا کرے کہ تیرے پاس علم آچکا ہے تو گہ دے: آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں اور تمہارے بیٹوں کو بھی اور اپنی عورتوں کو اور تمہاری عورتوں کو بھی اور اپنے نفوس کو اور تمہارے نفوس کو بھی۔پھر ہم مباہلہ کریں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ڈالیں۔(ترجمه از قرآن کریم اردو ترجمه از حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ) از احادیث مبارکہ: عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَوْ بَاهَلَ أَهْلُ نَجْرَانَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَرَجَعُوا لَا يَجِدُونَ أَهْلًا وَّلَا مَالًا (الدر المنشور تفسير بالماثور جلد 2 صفحہ 220 تا 221) حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اہل نجران رسول اللہ سے مباہلہ کر لیتے تو واپس لوٹتے تو اپنے گھروں میں اہل وعیال اور مال کو نہ پاتے۔فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ آتَانِيَ الْبَشِيرُ بِمَكَّةَ اَهْلَ نَجْرَانَ حَتَّى الطَّيْرَ عَلَى الشَّجَرِ لَوْ تَمُوا عَلَى الْمَلَاعَنَة۔(الدر المنظور تفسیر بالماثور جلد 2 صفحہ 220 تا 221) حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ ملاعنت کو پورا کر دیتے ہیں تو مجھے خوشخبری دینے والے نے اہل نجران کی ہلاکت کی خبر دی ہے یہاں تک کہ درختوں پر بیٹھے پرندے بھی ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے۔قَالَ: إِنْ كَانَ الْعَذَابُ لَقَدْ نَزَلَ عَلَى أَهْلِ نَجْرَانَ وَلَوْ فَعَلُوا لَاسْتَوْصَلُوا عَنْ وَجْهِ الْأَرْضِ۔(الدر المنشور تفسیر بالماثور جلد 2 صفحہ 220 تا 221) فرمایا: اگر اہل نجران پر عذاب نازل ہوتا اور وہ مباہلہ کرتے تو ضرور وہ سطح زمین سے اکھیر دیے جاتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے مباہلہ کا چیلنج اب اے مخالف مولویو! اور سجادہ نشینو !! نزاع ہم میں اور تم میں حد سے زیادہ بڑھ گئی ہے اور اگر چہ جماعت بہ نسبت تمہاری جماعتوں کے تھوڑی سی اور فِئَةٌ قَليلَة ہے اور شاید اس وقت تک چار ہزار، پانچ ہزار سے زیادہ نہ ہوگی۔تاہم یقیناً سمجھو کہ یہ خدا کے ہاتھ کا لگایا ہوا پودا ہے خدا اس کو ہر گز ضائع نہیں کرے گا۔وہ راضی نہیں ہو گا جب تک اس کو کمال تک نہ پہنچاوے اور وہ اس کی آبپاشی کرے گا اور اس کے گرد احاطہ بنائے گا اور تعجب انگیز ترقیات دے گا۔کیا تم نے کچھ کم زور لگایا؟ پس اگر یہ انسان کا کام ہوتا تو کبھی کا یہ درخت کاٹا جاتا اور اس کا نام و نشان باقی نہ رہتا۔اُسی نے مجھے حکم دیا ہے کہ تا میں آپ لوگوں کے سامنے