مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 461
شروع 1924 ء میں انگلستان کی مشہور ویمبلے نمائش کے سلسلہ میں سوشلسٹ لیڈر مسٹر ولیم لافٹس ہیری Mr۔William) Loftus Harry) نے یہ تجویز کی کہ اس عالمی نمائش کے ساتھ ساتھ ایک مذاہب کانفرنس بھی منعقد کی جائے جس میں برطانوی مملکت کے مختلف مذاہب کے نمائندوں کو دعوت دی جائے کہ وہ اس کانفرنس میں شریک ہو کر اپنے اپنے مذہب کے اصولوں پر روشنی ڈالیں۔نمائش کے منتظمین جن میں مستشرقین بھی شامل تھے، نے اس خیال سے اتفاق کیا اور لنڈن یونیورسٹی کے مدرسہ علوم شرقیہ (The School of Oriental Studies) کے زیر انتظام کا نفرنس کے وسیع پیمانہ پر انعقاد کے لئے ایک کمیٹی قائم کر دی گئی۔کانفرنس کا مقام امپیریل انسٹی ٹیوٹ لنڈن مقرر کیا گیا اور 22 ستمبر 1924 سے 3اکتوبر 1924 ء تک کی تاریخیں اس کیلئے تجویز کی گئیں۔کمیٹی نے مندرجہ ذیل مذاہب کے مقررین کا انتخاب کیا: ہندومت، اسلام، بدھ ازم، پارسی مذہب، جینی مذاہب، سکھ ازم، تصوف، برہمو سماج، آریہ سماج، کنفیوشس ازم وغیرہ۔اس کانفرنس میں حضرت خلیفۃ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی اسلام کی طرف سے نمائندگی کی دعوت دی گئی لہذا حضرت خلیفۃ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے مجلس مشاورت بلائی اور تمام جماعتوں سے مشورہ کرنے کے بعد ویمبلے کا نفرنس میں شرکت کے لئے یورپ روانہ ہوئے۔تاریخ احمدیت جلد نمبر 4 صفحہ 422) تمام جماعتوں سے مشورہ اور اتفاق رائے سے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالی عنہ ویمبلے کا نفرنس میں شرکت کے ارادے سے یورپ کی طرف عازم سفر ہوئے۔12 جولائی 1924ء سے 21 اگست 1924 ء تک دشوار گزار سفر کرتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالی عنہ اپنے گیارہ رفقا کے ہمراہ مورخہ 22 اگست 1924ء کو 6 بجے کے قریب لندن کے مشہور وکٹوریہ (Victoria) سٹیشن پہنچے۔22 ستمبر 1924 ء کو حضور اپنے رفقا کے ہمراہ ویمبلے کا نفرنس میں شمولیت کیلئے تشریف لے گئے۔کا کانفرنس میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مضمون کی شاندار کامیابی: پورا ہو ہو گیا۔مسلسل 23 ستمبر 1924 ء کا دن سفر یورپ کی تاریخ میں سنہری دن ہے کیونکہ اس دن ویمبلے کا نفرنس میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بے نظیر مضمون پڑھا گیا جس نے سلسلہ احمدیہ کی شہرت کو چار چاند لگا دیئے۔یورپ میں اسلام کی روحانی فتح کی بنیادیں رکھ دیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا لنڈن میں تقریر کرنے کا رویا پوری آب و تاب سے حضرت خلیفۃ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مضمون کا وقت 5 بجے شام مقرر تھا جب کہ لوگ اڑھائی گھنٹے سے بیٹھے اسلام سے متعلق مضامین سن رہے تھے۔انگلستان کے باشندے زیادہ دیر تک بیٹھنے کی عادی نہیں ہیں مگر جونہی حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تقریر کا وقت آیا وہ نہ صرف وہیں اپنی اپنی جگہ پورے شوق و ذوق سے بیٹھ گئے بلکہ دیکھتے ہی دیکھتے پورا ہال سامعین سے بھر گیا کسی اور لیکچر کے وقت حاضرین کی تعداد اتنی زیادہ نہیں ہوئی۔اجلاس کے صدر سر تھیوڈر ماریسن نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سامعین سے تعارف کرنے کے بعد نہایت ادب و احترام کے جذبات کے ساتھ حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے درخواست کی کہ اپنے کلمات سے محظوظ فرمائیں اس پر حضرت امیر المؤمنین خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ جو اپنے رفقا کے ساتھ ینے رفقا کے ساتھ سٹیج پر ہی تشریف فرما تھے کھڑے ہوئے اور انگریزی میں فرمایا: مسٹر پریذیڈنٹ، بہنو اور بھائیو! میں سب سے خدا کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ اس نے اس کانفرنس کے بانیوں کے دلوں میں یہ خیال پیدا کیا کہ لوگ اس طریق پر مذہب کے سوال پر غور کریں اور مختلف مذاہب سے متعلق تقریریں سن 461