مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 459 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 459

( ملفوظات جلد 3 صفحہ 84) ہے حضرت خلیفۃالمسیح الاوّل رضی اللہ عنہ اور مستشرقین کا رڈ: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد آپ علیہ السلام کے جانشینوں نے بھی ان متعصب مستشرقوں کی جا بجا بیخ کنی کی مثلاً حضرت خلیفة اصیح الاول رضی اللہ عنہ نے 1888ء میں ایک معرکۃ الآرا کتاب تصنیف فرمائی جس کا نام فصل الخطاب رکھا۔عیسائیت کے رد میں یہ ایک زبردست کتاب ہے جس میں مستشرقین کے ان تمام لچر اور بے ہودہ اعتراضات کے دندان شکن جواب دیئے گئے ہیں جو انہوں نے اسلام اور بانی اسلام پر کمال بے باکی سے کئے اس کے علاوہ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی کتاب میں اسلام کی خصوصیات، حقیقت جہاد، احکام اسلامی کی حکمت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فضلیت پر سیر حاصل بحث فرمائی ہے۔اس کے علاوہ آپ رضی اللہ عنہ کی ایک اور شہرہ آفاق کتاب ”الوہیت مسیح ہے جس میں قرآن و بائبل اور عقل کی رُو سے ثابت کیا گیا ہے کہ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام صرف ایک عاجز انسان تھے، خدا یا خدا کے بیٹے نہ تھے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اور مستشرقین کا رڈ: پھر آگے چل کر جب ہم حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی مقدس سوانح پر نظر دوڑاتے ہیں تو آپ رضی اللہ عنہ ہمیں جگہ جگہ مستشرقین اور پادریوں کے خلاف مورچہ زن نظر آتے ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی بہت ہی مشہور تصنیف تفسیر کبیر ہے جو کہ دس جلدوں پر مشتمل ہے اس تفسیر میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے جابجا مستشرقوں کی دھجیاں بکھیری ہیں۔کہیں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ تاریخ کے حقائق سے اہل مغرب کو آگاہ کرتے نظر آتے ہیں تو کہیں ان کی طرف سے اسلام پر کئے گئے فضول اور لچر اعتراضات کا جواب دیتے دکھائی دیتے ہیں اور کہیں عیسائیت کے جھوٹے اور باطل عقائد کا پول کھولتے نظر آئے ہیں۔اس کے علاوہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے کئی ایک کتابیں تصنیف فرمائی ہیں جن میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے نہ صرف مستشرقین کا رڈ فرمایا ہے بلکہ اسلام کی حقانیت پر بھی نہایت فصاحت و بلاغت سے روشنی ڈالی ہے: مثلاً حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اپنی ایک تقریر جو کہ انوار العلوم کی جلد نمبر 3 میں نجات کی حقیقت کے عنوان سے شائع ہو چکی ہے، میں بھی عیسائی عقیدہ کا نہایت مدلل رڈ فرمایا ہے اس کے علاوہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے عیسائی مستشرقین کے رڈ کیلئے کئی ایک کامیاب سفر بھی کئے۔مثلاً 1924 ء میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ لندن کی مشہور ویمبلے کانفرنس میں شرکت کے لئے یورپ تشریف لے گئے جس میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا پر معارف مضمون پڑھا گیا جس میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اسلام کی حقیقت و حقانیت پر نہایت مدلل بحث فرمائی اور مخالفین اسلام کے اعتراضات کے مدلل جواب مختلف میٹنگز میں دیئے۔پھر ایک بار اوائل 1914ء میں لاہور کے تین یورپین عیسائی علما تحقیق اور مطالعہ کی غرض سے قادیان تشریف لائے ان میں ایک مسٹر والٹر (Mr۔Walter) جو کہ ایک عیسائی مستشرق تھے اور کرسچین ایسوسی ایشن لاہور کے سیکرٹری تھے ان کا ارادہ احمدیت پر ایک کتاب لکھنے کا تھا اس غرض سے وہ احمدیت کا گہری تنقیدی نظر سے مطالعہ کر رہے تھے ان کی خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک طویل گفتگو ہوئی۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے مسٹر والٹر (Mr۔Walter) کے سوالات کے اس قدر مدلل جواب دیئے کہ بعد میں مسٹر لیوکس جو کہ ان تین علما میں سے ایک تھے، نے سامعین کے سامنے اپنی تقریر میں بڑے وثوق سے کہا: عیسائیت اور اسلام کی جنگ کا فیصلہ دنیا کے کسی بڑے شہر میں نہیں ہو گا بلکہ ایک نامعلوم بستی میں ہو گا جس کا نام قادیان ہے۔459