مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 448 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 448

(اخبار وکیل بحوالہ بدر قادیان 18 جون 1908ءصفحہ 2 و 3) تحریک شدھی ملکانه : حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات بعد کے تقریباً 1923ء کے آغاز میں ہی آپ علیہ السلام کے خلیفہ ثانی کے دور خلافت میں ایک اور خطر ناک حملہ آریہ سماج کی طرف سے اسلام پر کیا گیا جو تاریخ میں تحریک شدھی ملکانہ کے نام سے زبان زدعام ہے جس میں ہندوؤں کی طرف سے مسلمانوں کو مرتد کر کے دوبارہ ہندو بنانے کی مذموم کوشش کی گئی اور کئی ضعیف الاعتقاد مسلمان اس فتنہ کا شکار ہو کر اسلام سے منحرف ہو کر آریوں کے گندے عقائد کے پیروکار بن گئے۔یہ صورت حال بھلا خلفائے احمدیت کیلئے کیسے قابل برداشت ہو سکتی تھی؟ چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالی نے ہندوؤں کی اس مذموم سازش کا وسیع پیمانہ پر مقابلہ کرنے کا عظیم پروگرام بنایا۔ذیل میں اس تحریک مذموم کی تفصیلات ملاحظہ ہوں: شدھی تحریک کا پس منظر: ہندستان میں اسلامی حکومت کی بنیاد تو فاتح سندھ محمد بن قاسم کے ہاتھوں 712ء میں رکھی گئی مگر اسلام کا پیغام اس بر صغیر میں عرب تاجر اور سیاح برسوں پہلے پہنچا چکے تھے اور اس کی وسیع تبلیغ و اشاعت اکا بر اولیا و اصفیا وصلحائے امت نے کی۔ان بزرگوں کی اخلاقی قوت، ان کے خوارق و کرامات اور ان کے زبردست روحانی اثرات کی وجہ سے ہندوستان کی کئی سے ہندوستان کی کئی بت پرست قومیں راجپوت، جاٹ، میواتی وغیرہ اس کثرت سے اسلام میں داخل ہو گئیں کہ ہر طرف مسلمان ہی مسلمان نظر آنے لگے مگر جیسا عظیم الشان یہ داخلہ تھا ویسے وسیع پیمانے پر اس کی نگہداشت اور تعلیم و تربیت کا انتظام نہ ہو سکا اور بعض ہندو قومیں اسلامی تعلیم و تربیت سے بکلی محروم رہیں۔چونکہ وہ اسلام کو سچا سمجھ کر مسلمان ہوئی تھیں اس لئے اپنے آپ کو سمجھتی اور کہتی تو مسلمان رہیں اور ہندو بھی انہیں مسلمان ہی خیال کرتے رہے لیکن اپنے آپ کو مسلمان سمجھنے اور کہلانے کے سوا ان کا رہنا سہنا، کھانا پینا، بول چال، پہناوا، برتاؤ اور رسم و رواج سب ہندووانہ تھے۔یہاں تک کہ نام بھی ہندووانہ، کام بھی ہندوانہ اور ماحول بھی ہندووانہ۔ان کے ہاں شادی کے موقع پر قاضی جی بھی بلائے جاتے تھے اور پنڈت جی بھی ! یہی حالت نمی کے موقع پر تھی۔ان قوموں کے مردے بھی جاتے تھے اور جلائے بھی جاتے تھے۔ان کے کئی دور اسی حالت میں گزر چکے تھے۔وہ تو ناواقفی کی وجہ سے اپنی اس غیر اسلامی حالت کو اسلامی حالت سمجھ کر مطمئن تھیں اور مسلمان اپنی غفلت و بے پروائی کے باعث اور ان قوموں کا اس حالت پر قائم و برقرار رہنا بھی صرف اس لئے ہو سکا کہ یہ جہاں کہیں بھی تھیں سناتنی ہندوؤں میں گھری ہوئی تھیں اور سناتنی ہندو کسی غیر مذہب کو اپنے مذہب میں داخل و شامل کرنا خود مذہبی عقائد کی رُو جائز نہیں سمجھتے اور اس کے سخت مخالف تھے اس لئے انہوں نے سودی کاروبار کے ذریعہ سے ان قوموں کا خون تو جہاں تک چوس سکے خوب چوسا لیکن مذہبی لحاظ سے ان کے معاملات میں نہ کوئی مداخلت کر سکتے تھے اور نہ انہوں نے کوئی مداخلت کی۔ہاں جب اُنیسویں صدی عیسوی کے نصف آخر میں پنڈت دیانند سرسوتی کی کوشش سے سناتنی ہندوؤں کے خلاف ایک نیا فرقہ آریہ ظہور میں آیا تو وہ غیر مذاہب والوں کو اپنے مذہب میں شامل کر لینے کا قائل اور اس کیلئے بڑا جوش و خروش رکھنے والا تھا۔چنانچہ اس نے قوت پاتے ہی شدھی یعنی غیر مذاہب کے لوگوں کو اپنے مذہب میں شامل کرنے کا سلسلہ شرور کر دیا۔دفن کئے شدھی کے پیچھے ہندو راج کے منصوبے: تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 326و327) 448