مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 443
ہندوستان میں عیسائیت کا پھیلاؤ انیسویں صدی کے آخر میں ہندوستان میں عیسائیت اپنے پورے زوروں پر تھی اور مسلمانوں کو عیسائی بنایا جا رہا تھا اور جس تیزی کے ساتھ مسلمان عیسائی ہو رہے تھے لگتا تھا کہ کچھ ہی عرصہ میں سارا ہندوستان عیسائی ہو جائے گا لیکن ایسے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کھڑا کیا تاکہ دین اسلام کو تمام ادیان باطلہ پر غالب کر کے دکھا دے۔چنانچہ 1988ء میں پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر چارلس ایچی سن نے شملہ مسیحی مبلغین کی ایک میٹنگ میں تقریری کرتے ہوئے یہاں تک کہ دیا کہ: "One hears in these days a good deal of adverse criticism upon Mission work۔Fortunately, in this country at least, missionaries have no reason to shrink from this touch of scientific criticism; and perhaps it may surprise some who have not had an opportunity of looking into the matter, to learn that Christianity in India is spreading four or five times as fast as the ordinary population, and that the Native Christians now number nearly a million of souls۔۔۔۔۔" (The Missions by Revrend Robert Clarke page: 155) ترجمہ: جس رفتار سے ہندوستان کی مغربی آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے اس سے چار پانچ گنا تیز رفتار سے عیسائیت اس ملک میں پھیل رہی ہے اور اس وقت ہندوستانی عیسائیوں کی تعداد دس لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے۔فضل، پھر امریکہ کے جان ہنری بیروز نے 1896ء اور 1897ء میں ہندوستان کے مختلف مقامات پر لیکچر دیئے جو کرسچن لٹریچر سوسائٹی فار انڈین مدراس نے 1897ء میں کتابی صورت میں شائع کئے۔ایک لیکچر میں ڈاکٹر مذکور نے عیسائیت کے غلبہ اور استیلا کا ذکر کرتے ہوئے فخریہ انداز میں اعلان کیا: آسمانی بادشاہت پورے کرہ ارض پر محیط ہوتی جا رہی ہے۔آج دنیا بھر میں اخلاقی اور فوجی طاقت، علم و صنعت و حرفت اور تمام تر تجارت ان اقوام کے ہاتھ میں ہے جو آسمانی ابوت اور انسانی اخوت کی مسیحی تو ایمان رکھتے ہوئے یسوع مسیح کو اپنا نجات دہندہ تسلیم کرتی ہیں۔“ (بیروز لیکچرز صفحه 19) آگے چل کر ایک برطانوی ادیب کے حوالے سے عیسائیت کے غلبہ کا نقشہ اس طرح فخریہ انداز میں کھینچتا ہے: ”دنیائے عیسائیت کا عروج آج اس درجہ زندہ حقیقت کی صورت اختیار کر چکا ہے کہ یہ درجہ عروج اسے اس ے پہلے کبھی نصیب نہ ہوا تھا۔ذرا ہماری ملکہ عالیہ (ملکہ وکٹوریہ Queen Victoria) کو دیکھو جو ایک ایسی سلطنت کی سربراہ ہے جس پر کبھی سورج غروب نہیں ہوتا۔دیکھو! وہ ناصرہ کے مصلوب کی خانقاہ پر کمال درجہ تابعداری سے احتراماً جھکتی اور خراج عقیدت پیش کرتی ہے یا پھر گاؤں کے گرجا میں جا کر نظر دوڑاؤ اور دیکھو وہ سیاسی مدبر (وزیر اعظم برطانیہ) جس کے ہاتھوں میں ایک عالمگیر سلطنت اور اس کی قسمت کی باگ ڈور ہے، جب یسو مسیح کے نام پر دعا کرتا ہے تو کیسی عاجزی اور انکساری سے اپنا سر جھکاتا ہے۔دیکھو! جرمنی کے نوجوان قیصر کو جب وہ خود اپنے لوگوں کے لئے بطور پادری فرائض سرانجام دیتا تو یسوع مسیح کے مذہب یعنی دین 443