مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 429
18 مارچ 1953ء گورنر پنجاب کی طرف سے حضرت خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ کو نوٹس جاری کیا گیا کہ آپ احرار احمدی تنازع یا جماعت احمدیہ کے خلاف ایجی ٹیشن (agitation) یا اور کسی امر کے بارے میں جس سے مختلف طبقات کے مابین منافرت یا دشمنی کے جذبات کے اُبھر نے کا امکان ہو تقریر کرنے یا بیان یا رپورٹ شائع کرنے سے احتراز کریں۔باوجود اس کے کہ ان دنوں میں مخالفین پورے جوش و خروش سے جماعت لٹریچر تقسیم کر رہے تھے اور ہر طرح کے بیان بھی ہرے رہے تھے لیکن حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے قانون پر عمل کیا اور ساتھ ہی گورنر کو بھی انتباہ فرمایا۔حضرت خليفة أمسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” بے شک میری گردن آپ کے ہاتھ میں ہے لیکن آپ کے گورنر کی گردن میرے خدا کے ہاتھ میں آپ کے گورنر نے میرے ساتھ جو کچھ کرنا تھا کر لیا اب میرا خدا ہاتھ دکھائے گا۔“ ہے۔تاریخ احمدیت جلد 16 صفحہ 242) خدا کے خلیفہ کا قول پورا ہوا اور چند دن کے اندر اندر گورنر پنجاب کو برطرف کر دیا گیا۔اس کی جگہ نیا گورنر مقرر ہوا۔اس نے یکم مئی 1953ء کو یہ ظالمانہ نوٹس واپس لے لیا۔تاریخ احمدیت جلد 16 صفحہ 240 تا 247) جو خدا کا ہے اسے للکارنا اچھا نہیں ہاتھ شیروں پر نہ ڈال اے روبہ زار و نزار انہیں ایام میں قصرِ خلافت کی تلاشی لی گئی اور حضرت مرزا ناصر احمد (خليفة أسبح الثالث) اور حضرت مرزا شریف احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو گرفتار کر لیا گیا اور دو ماہ قید رکھا گیا۔علاوہ ازیں 1953 ء میں 6 احمدی شہید ہوئے اور 12 احمدیوں کو اسیران راہ مولی بنایا گیا۔تحریک کا انجام اس مخالفانہ تحریک کا انجام یہ ہوا کہ صوبائی اور مرکزی حکومت ٹوٹ گئی اور تحریک خود ہی سرد پڑ گئی اور اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔مخالفین کا کوئی بھی مطالبہ پورا نہ ہوا اور وہ آپس میں لڑ پڑے۔تاریخ احمدیت جلد 16 صفحہ 253) 6 مارچ 1953 ء کو لاہور میں مارشل لاء کا نفاذ عمل میں آیا جو 15 مئی 1953 ء تک رہا۔1953ء کی مخالفانہ تحریک میں مجلس احرار اور جماعت اسلامی دونوں ہی سب سے نمایاں اور پیش پیش تھیں اور انہوں نے اپنے مطالبات منوانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا لیکن تحریک بری طرح ناکام ہو گئی اور لیڈر گرفتار کر لئے گئے۔کچھ عرصہ کے بعد جب یہ لوگ رہا ہوئے تو باہم برسر پیکار ہو گئے اور ایک دوسرے کے خلاف قلمی اور لسانی جنگ کا وسیع محاذ کھول دیا۔مثال کے طور پر دو حوالے ملاحظہ ہوں۔سید ابو الاعلیٰ مودودی امیر و بانی جماعت اسلامی نے احراریوں کی تحریک ختم نبوت“ کے متعلق اپنی رائے یہ دی کہ: اس کارروائی سے دو باتیں میرے سامنے بالکل عیاں ہو گئیں: ایک یہ کہ احرار کے سامنے اصل سوال تحفظ ختم نبوت کا نہیں ہے بلکہ نام اور سہرے کا ہے اور یہ لوگ مسلمانوں کے جان و مال کو اپنی اغراض کے لئے جوئے کے داؤ پر لگا دینا چاہتے ہیں۔دوسرے یہ کہ رات کو بالا تفاق ایک قرار داد طے کرنے کے بعد چند آدمیوں نے الگ بیٹھ کر ساز باز کیا ہے اور ایک دوسرا ریزولیوشن بطور خود لکھ لائے ہیں جو بہر حال کنونشن کی مقرر کردہ بجیکٹس 429