مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 400
66 بہت بڑی غفلت ہوئی ہے لائبریری ایک ایسی چیز ہے کہ کوئی تبلیغی جماعت اس کے بغیر کام نہیں کر سکتی۔“ غرض فضل عمر فاؤنڈیشن کے ذریعہ مرکز سلسلہ میں ایک جدید لائبریری کا فراہم کرنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے عنہ كمان اہم کاموں سے تھا جن سے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کو خاص دلچسپی تھی اور جن کو پورا کر نے کا عزم نافلہ موعود خلیفۃ المسیح الثالث رضی اللہ عنہ نے کیا تھا۔حیات ناصر جلد 1۔صفحہ 520) (د) انعامی مقالہ جات: اس کے لئے فاؤنڈیشن نے ہر سال علمی تحقیقی انعامی مقالہ جات لکھوانے کا سلسلہ شروع کیا جس کا مدعا علمی ذوق پیدا کرنا اور کتب تصنیف کرنے کی اس جامع سکیم پر عملدرآمد کرنا تھا جو حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے 1949ء میں احباب جماعت کے سامنے رکھی تھی۔اول انعام حاصل کر نے والے کو ایک ہزار روپے سے اڑھائی ہزار تک کے انعامات دیئے جاتے رہے ہیں۔خلافت ثالثہ کے اختتام تک ستائیس مقالہ جات پر انعامات دیئے گئے ، انعامات کی کل رقم پچاس ہزار کے لگ روپے بھنگ دی گئی۔(1) سرائے فضل عمر : خلافت ثالثہ میں جلسہ سالانہ پر غیر ملکی وفود میں ہر سال اضافہ ہوتا رہا ہے۔غیر ملکی مہمانوں کی رہائش کے لیے مرکز سلسلہ میں کئی گیسٹ ہاؤس بنائے گئے جن میں سے ایک گیسٹ ہاؤس جو تحریک جدید کے احاطہ میں سوا گیارہ لاکھ روپے کی لاگت سے 1974ء میں تعمیر ہوا اور ”سرائے فضل عمر کے نام سے موسوم ہے فضل عمر فاؤنڈیشن کے تحت تعمیر ہوا۔اس کاسنگ بنیاد حضرت خليفة اصبح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے 30 جنوری 1974ء کو اپنے دست مبارک سے رکھا تھا۔اس گیسٹ ہاؤس میں ائر کنڈیشنرز اور پانی گرم کرنے کے لئے گیزر بھی نصب کئے گئے ہیں اور یہ گیسٹ ہاؤس جدید قسم کی سہولتوں سے مزین ہے۔(و) ٹرانسلیشن بوتھ (Translation Booth): غیر ملکی مہمانوں کو جلسہ سالانہ پر اصل تقریر کے ساتھ ساتھ ان کے تراجم سنانے کی دقت محسوس کی جارہی تھی۔غیر ملکی مہمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے یہ خواہش فرمائی کہ ترجمانی کے لئے آلات نصب کر کے غیر ملکیوں کو سہولت دی جائے۔اس پر بعض مخلص انجینئرز کی کوششوں سے ڈیزائن تیار کر لیا گیا۔یوں 1980ء کے جلسہ سالانہ پر پہلی مرتبہ یہ آلات نصب کر کے دو زبانوں میں تراجم سنوانے کا بندو بست کیا گیا جن میں سال بہ سال اضافے کی گنجائش رکھی گئی۔چنانچہ جلسہ سالانہ 1980ء پر زنانہ مردانہ دونوں جلسہ گاہوں میں انگلش اور انڈونیشین تراجم سنوائے گئے اور سلسلہ بعد میں بھی اضافے کے ساتھ جاری ہے۔ترجمانی کے نظام کے لیے آلات کے ڈیزائن کا کام تو انجینئروں نے رضا کارانہ طور پر کیا لیکن آلات کی قیمت کے لئے ایک لاکھ روپے کا ابتدائی سرمایہ فضل عمر فاؤنڈیشن نے فراہم کیا۔(ز) لٹریری کمیٹی (Literary Committee): فضل عمر فاؤنڈیشن کے تحت ایک لٹریری کمیٹی (Literary Committee) قائم کی گئی جو جماعت کی علمی ترقی کے لئے 400