مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 390 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 390

جماعت کے چندہ میں معلم کے آنے سے قبل بقایا در بقایا تھا۔ان کے آنے سے اب %75 چندہ ادا ہو چکا ہے جبکہ ابھی سال کے چار پانچ ماہ باقی ہیں۔“ ایک اور پریذیڈنٹ (President) معلم کی تقرری سے قبل اور بعد کا موازنہ کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: چندہ عام دوصد روپے صرف تھا۔اب 66-1965ء کا بجٹ جس میں حصہ آمد بھی شامل ہے دو ہزار روپے دو ہے۔66 دوم: چونکہ معلمین کو تاکید کی جاتی ہے کہ نو مبائعین کو فوری طور پر جماعتی چندوں میں شامل کریں ورنہ ان کے ہے ذریعے ہونے والی بیعتیں حقیقی بیعتیں شمار نہیں ہوں گی اس لیے جوں جوں مبائعین کی تعداد بڑھتی جاتی چندوں میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔اس ضمن میں ایک سیکرٹری مال نے جو اعداد و شمار بھجوائے ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ جماعت کا چندہ عام کا کل سالانہ بجٹ 4907 رو۔روپے 40 پیسے ہے جس میں 1215 روپے بجٹ ان نو مبائعین کا ہے جو وقف جدید کے ذریعہ سلسلہ میں داخل ہوئے، یہی نہیں بلکہ وہ لکھتے ہیں کہ اس بجٹ میں 725 روپے 50 پیسے کی وہ رقم بھی شامل ہونی چاہئے جو بعض نو مبائعین کی نقل مکانی کی وجہ سے دوسری جماعتوں میں منتقل کی گئی گویا چار ہزار نو سو سات روپے میں سے ایک ہزار نو سو چالیس روپے صرف نو مبائعین کا بجٹ ہے۔فالحمد للہ علی ذلک۔ب۔نماز باجماعت کا قیام: اس اہم دینی فریضہ کی سر انجام دہی میں معلمین کو خدا تعالیٰ کے فضل و رحم کے ساتھ حیرت انگیز کامیابی ہو رہی ہے۔مختلف صدر صاحبان اور اُمرا کی طرف سے اس بارہ میں بیسیوں خوشنودی کا اظہار موصول ہوتے ہیں۔مثال کے طور پر ایک بڑی جماعت کے صدر صاحب لکھتے ہیں: نماز باجماعت کے قیام میں معلم نے مختلف کوششوں کے طریق جاری رکھے۔مثلاً صبح نماز کے وقت گاؤں میں بلند آواز سے درود شریف پڑھنا۔۔۔معلم صاحب کے آنے سے پہلے تقریباً ساری جماعت ہی بے جماعت سمجھ لیں کیونکہ خاکسار اگر گھر پر ہوتا تو نماز ہو جاتی۔اگر کا کسار گھر پر نہ ہوتا تو نماز باجماعت نہ ہوتی لیکن محترم معلم صاحب کے آنے سے یہ بیماری دور ہو گئی اور باقاعدہ نماز با جماعت ہونے لگی اور پھر نماز باجماعت ہی نہیں بلکہ نماز تہجد با جماعت کا سلسلہ بھی جاری رہنے لگا اور اس دوران میں ایک ماہ سے اوپر مستقل نماز تہجد جاری ہے۔66 (سوانح فضل عمر جلد 3 صفحہ 354 و 355) ایک اور جماعت کے پریذیڈنٹ (President) صاحب مندرجہ ذیل الفاظ میں جماعت کی پہلی حالت اور بعد میں پیدا ہونے والی خوشگوار تبدیلی کا ذکر فرماتے ہیں: ” جب معلم پہلے دن یہاں ہمارے گاؤں میں تشریف لائے تو ان کو اکیلے ہی نماز ادا کرنی پڑتی۔احمدی احباب کے گھروں میں جانا اور نماز کی طرف توجہ دلانا اور نماز بے جماعت اور نماز با جماعت کے متعلق تقریر کرنا اور ان کے مردہ شعور کو زندہ کرنے کے لئے کئی کئی گھنٹے وقت صرف کرنا پڑا جس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ آج تمام مرد پانچ وقت نمازوں میں برابر شریک ہوتے اور نماز باجماعت ادا کرتے ہیں اور ہماری عورتیں بھی گھروں پر با قاعدہ نماز ادا کرتی ہیں۔نماز تہجد کا شعور پیدا ہو چکا ہے۔“ 390