مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 386 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 386

پہلا مطالبہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے جماعت سے اس تحریک کے سلسلہ میں جو مطالبہ فرمایا وہ سادہ زندگی اختیار کر نا تھا، دوسرا مطالبہ: کروائیں، جماعت کے مخلص افراد اپنی آمد کا 1/5 سے 1/3 حصہ تک سلسلہ کے مفاد کے لیے تین سال تک جمع تیسرا مطالبہ دشمن کے گندے لٹریچر کا جواب دیا جائے۔چوتھا مطالبہ: احباب اپنی زندگیاں خدمت دین کے لیے وقف کریں۔پانچواں مطالبہ اس سکیم کے لیے بعض احباب ماہانہ سو روپیہ چندہ دیں۔غربا بھی ماہانہ پانچ روپے چندہ دے کر اس مالی قربانی میں شامل ہو سکتے ہیں۔چھٹا مطالبہ: بعض احباب اشاعتِ سلسلہ کے لیے کم از کم تین سال وقف کریں۔ساتواں مطالبہ وقف برائے تین ماہ کریں اور ملازم پیشہ احباب اپنے خرچ پر جماعتوں میں جائیں۔آٹھواں مطالبہ پینشنر (pensioner) افراد خدمت دین کے لیے وقف کریں۔نواں مطالبہ: جماعت کے افراد ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ڈالیں۔دسواں مطالبہ اپنی جائیداد میں سے عورتوں کو ان کا شرعی حصہ ادا کریں۔گیارھواں مطالبہ: مخلوق خدا کی خدمت کی جائے۔بارہواں مطالبہ:۔ہر احمدی امانت داری کی عادت ڈالے کسی کی امانت میں خیانت نہ کرے۔(سوانح فضل عمرؓ جلد 3 صفحہ 306 تا 317) 386 حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے فرمودات کی روشنی میں تحریک جدید کے ثمرات: حضور جماعت کی قربانی اور مطالبات کی تعمیل پر اظہار خوشنودی کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”دنیا میں تو یہ جھگڑے ہوتے ہیں کہ میاں بیوی کی لڑائی ہوتی ہے تو بیوی کہتی ہے کہ مجھے زیور بنوا دو اور میاں کہتا ہے میں کہاں سے زیور بنوا دوں میرے پاس تو روپیہ ہی نہیں، لیکن میں نے اپنی جماعت میں سینکڑوں جھگڑے اس قسم کے دیکھے ہیں کہ بیوی کہتی ہے میں اپنا زیور خدا تعالیٰ کی راہ میں دینا چاہتی ہوں ہوں مگر میرا خاوند کہتا ہے نہ دو کسی اور وقت کام آجائے گا۔غرض خدا تعالیٰ نے ہماری جماعت کو ایسا اخلاص بخشا ہے کہ اور عورتیں تو زیور کے پیچھے پڑتی ہیں اور ہماری عورتیں زیور لے کر ہمارے پیچھے پھرتی ہیں۔میں نے تحریک وقف کی تو ایک عورت اپنا زیور میرے پاس لے آئی۔میں نے کہا میں نے سر دست تحریک کی ہے کچھ مانگا نہیں۔اس نے کہا یہ درست ہے کہ آپ نے مانگا نہیں لیکن اگر کل ہی مجھے کوئی ضرورت پیش آگئی اور میں یہ زیور خرچ کر بیٹھی تو پھر میں کیا کروں گی۔میں نہیں چاہتی کہ میں اس نیکی میں حصہ لینے سے محروم رہوں۔اگر آپ اس وقت لینا نہیں چاہتے تو بہر حال یہ زیور اپنے پاس امانت کے طور پر رکھ لیں اور جب بھی دین کو ضرورت ہو خرچ کر لیا جائے۔میں نے بہتیرا اصرار کیا کہ اس وقت میں نے کچھ مانگا نہیں مگر وہ یہی کہتی چلی گئی کہ میں نے تو یہ زیور خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف کر دیا ہے اب میں اسے واپس نہیں لے سکتی۔یہ نظارے غربا میں