مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 378 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 378

تعلق یہ محبت کا اظہار، ملوک یا بادشاہوں کے ساتھ ہوتا ہے یا خدا کی طرف سے دلوں میں پیدا کیا جاتا ہے۔ایک صاحب پرانے احمدی جو فالج کی وجہ سے بہت بیمار تھے، ضد کر کے 40-50 کلومیٹر یا میل کا فاصلہ طے کر کے مجھ سے ملنے کے لئے آئے۔اور فالج سے ان کے ہاتھ مڑ گئے تھے، ان مڑے ہوئے ہاتھوں سے اس مضبوطی سے انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا کہ مجھے لگا کہ جس طرح شکنجے میں ہاتھ آگیا ہے۔کیا اتنا ترڈ د کوئی دنیا داری کے لئے کرتا ہے۔غرض کہ جذبات کی مختلف کیفیات تھیں۔یہی حال کینیا (Kenya) کے دور دراز کے علاقوں کے احمدیوں میں تھا اور یہی جذبات یوگنڈا (Uganda) کے دور دراز علاقوں میں رہنے والے احمدیوں کے تھے۔جو رپورٹس شائع ہوں گی ان کو پڑھ لیں خود ہی پتہ چل جائے گا کہ خلافت کے لئے لوگوں میں کس اور انشاء اللہ تعالیٰ یہی نیک عمل اور اخلاص جماعت احمدیہ میں ہمیشہ استحکام اور قیام خلافت کا قدر اخلاص ہے باعث بنتا چلا جائے گا۔“ الفضل انٹر نیشنل مؤرخہ 10 تا 17 جون 2005 ء ) حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز افریقہ کے حالات بیان کرتے ہوئے مزید فرماتے ہیں: یوگنڈا (Uganda) میں ہی جب ہم اترے ہیں اور گاڑی باہر نکلی تو ایک عورت اپنے بچے کو اٹھائے ہوئے، دو اڑھائی سال کا بچہ تھا، ساتھ ساتھ دوڑتی چلی جارہی تھی۔اس کی اپنی نظر میں بھی پہچان تھی، خلافت اور جماعت سے ایک تعلق نظر آرہا تھا، وفا کا تعلق ظاہر ہو رہا تھا۔اور بچے کی میری طرف توجہ نہیں تھی تھوڑی تھوڑی دیر بعد اس کا منہ اس طرف پھیرتی تھی کہ دیکھو اور کافی دور تک دوڑتی گئی۔اتنا رش تھا کہ اس کو دھکے بھی لگتے رہے لیکن اس نے پروا نہیں کی۔آخر جب بچے کی نظر پڑگئی تو بچہ دیکھ کر مسکرایا۔ہاتھ ہلایا۔تب ماں کو چین آیا۔تو بچے کے چہرے کی جو رونق اور مسکراہٹ تھی وہ بھی اس طرح تھی جیسے برسوں سے پہچانتا ہو۔تو جب تک ایسی مائیں پیدا ہوتی رہیں گی جن کی گود میں خلافت سے محبت کرنے والے بچے پروان چڑھیں گے اس وقت تک خلافت احمدیہ کو کوئی خطرہ نہیں۔“ الفضل انٹر نیشنل مؤرخہ 10 تا 17 جون 2005 ء) حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ”جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت مضبوط ہے اور ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ہے۔افریقہ میں بھی میں دورہ پر گیا ہوں ایسے لوگ جنہوں نے کبھی دیکھا نہیں تھا اس طرح ٹوٹ کر انہوں نے محبت کا اظہار کیا ہے جس طرح برسوں کے بچھڑے ملے ہوتے ہیں یہ سب کیا ہے؟ جس طرح ان کے چہروں پر خوشی کا اظہار میں نے دیکھا ہے، یہ سب کیا ہے؟ جس طرح سفر کی صعوبتیں اور تکلیفیں برداشت کرکے وہ لوگ آئے، یہ سب کچھ کیا ہے؟ کیا دنیا دکھاوے کے لیے یہ سب خلافت سے محبت ہے جو ان دور دراز علاقوں میں رہنے سے والے لوگوں میں بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے۔تو جس چیز کو اللہ تعالی پیدا کر رہا ہے وہ انسانی کوششوں کہاں نکل سکتی ہے۔جتنا مرضی کوئی چاہے، زور لگا لے۔عورتوں، بچوں، بوڑھوں کو باقاعدہ میں نے آنسوؤں سے روتے دیکھا ہے۔تو یہ سب محبت ہی ہے جو خلافت کی ان کے دلوں میں قائم ہے۔بچے اس طرح بعض دفعہ دائیں بائیں سے نکل کے سیکیورٹی کو توڑتے ہوئے آکے چمٹ جاتے تھے۔وہ محبت تو اللہ تعالیٰ نے بچوں کے دل میں پیدا کی ہے، کسی کے کہنے پہ تو نہیں آسکتے۔اور پھر ان کے ماں باپ اور دوسرے اردگرد لوگ جو اکٹھے ہوتے تھے ان کی محبت بھی دیکھنے والی ہوتی تھی۔پھر اس بچے کو اس لیے وہ پیار کرتے تھے کہ تم خلیفہ وقت سے چمٹ کے اور اس سے پیار لے کر آئے ہو۔“ 378