مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 379 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 379

مشعل راه جلد 5 حصہ دوم صفحه 20 ) حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز احباب جماعت کے محبت و اخلاص کے اظہار کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس پیاری جماعت نے جس خوشی اور اللہ تعالیٰ کی حمد کا اظہار کیا ہے وہ اس جماعت کا ہی خاصہ ہے۔آج پوری دنیا میں سوائے اس جماعت کے اور کہیں یہ اظہار نہیں مل سکتا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی سچائی کا اس دور میں یہی نشان کافی ہے لیکن گر دل میں ہو خوف کر دگار۔اللہ تعالیٰ مومنوں کی جماعت کو جب اگلے جہان میں جنت کی بشارت دیتا ہے تو اس کے نظارے صرف بعد میں ہی کروانے کے وعدے نہیں کرتا بلکہ اس دنیا میں بھی اخلاص ، وفا اور پیار کے نمونے دکھا کر آئندہ جنتوں کے وعدوں کو مزید تقویت دیتا ہے۔اس کے نظارے روزانہ ڈاک میں آج کل میں دیکھ رہا ہوں۔دل اللہ تعالیٰ کی حمد سے بھر جاتا ہے کہ کس طرح ایک شخص جو سینکڑوں ہزاروں میل دور ہے صرف اور صرف خدا کی خاطر خلیفہ وقت سے اظہار محبت و پیار کر رہا ہے اور یہی صورت ادھر بھی قائم ہو جاتی ہے۔ایک بجلی کی رو کی طرح فوری طور پر وہی جذبات جسم میں سرایت کر جاتے ہیں۔الحمد للہ، الحمد للہ دو 66 خطبات مسرور جلد 2003 صفحہ 17 ) حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: اسی طرح فرانس (France) کا جلسہ بھی اپنے لحاظ سے الحمد للہ بہت کامیاب تھا۔یہاں کے کارکنان بھی شکریہ کے مستحق ہیں اور یہاں کے جلسے کی جو سب سے بڑی خوبی تھی وہ یہ ہے کہ یہاں کافی بڑی تعداد ایسی ہے۔جو غیر پاکستانی احمدیوں کی ہے جن میں افریقہ ، الجیریا، مراکو، فلپائن وغیرہ کے لوگ شامل ہیں اور سب نے اسی جوش و جذبہ سے ڈیوٹیاں ادا کی ہیں اور بڑی خوش اسلوبی سے ادا کی ہیں اور اس طرح ادا کر رہے تھے جس طرح بڑے پرانے اور ایک عرصہ سے تربیت یافتہ ہوں۔اللہ تعالیٰ ان کے ایمان و اخلاص میں برکت عطاء فرمائے۔ان لوگوں کی بھی خلافت اور جماعت سے محبت ناقابل بیان ہے۔اللہ تعالیٰ اس کو بڑھاتا اور اثبات قدم عطا فرمائے۔“ رہے خطبات مسرور جلد 1 صفحہ 322 ) حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جماعت کے اخلاص وفا کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: انڈونیشینز (Indonesians) کا میں ذکر کر رہا تھا۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے ان کے سینوں کو ایمانی حکمتوں سے بھر رہا ہے اللہ تعالی۔اور ہر جگہ یہی نظارے دیکھنے میں آئے ہیں خطبہ کے بعد جس میں خطبہ کا ذکر کر رہا تھا سنگا پور کے، آپس میں ایک دوسرے کے گلے لگ کر روتے تھے یہ لوگ، اور اس بات پر قائم تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کی حالت بدلے گا اور وہ مزید تائیدات کے نظارے دیکھیں گے۔انشاء اللہ سنگا پور میں ملائیشیا اور انڈونیشیا کے علاوہ جن کی بڑی تعداد وہاں آئی ہوئی تھی بعض دوسرے ملکوں کے بھی چند لوگ آئے تھے، فلپائن، کمبوڈیا، پاپوا نیو گنی، تھائی لینڈ اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے سب اخلاص و وفا کے نمونے دکھانے والے تھے۔بعض چند سال پہلے کے احمدی تھے، مرد بھی اور خواتین بھی۔لیکن خلافت سے تعلق اور وفا کے جو اظہار تھے وہ دیکھ کر حیرت ہوتی تھی۔وہاں آنے کا بھی کافی خرچ ان کو کرنا پڑا، کافی دور کے بھی علاقے ہیں، کرایہ خرچ کر کے آئے تھے، ٹکٹ وغیرہ کافی مہنگا ہے۔ان کو دیکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ان الفاظ کی سچائی ثابت ہوتی ہے کہ وہ خدا کے گروہ ہیں جن کو خدا آپ سنبھال رہا ہے۔“ (خطبه جمعه فرموده مورخه 19 مئی 2006 ء بیت الفتوح لندن) 379