مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 377
(ماہنامہ خالد سیدنا طاہر نمبر 2004 صفحہ 93 ) حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے ایک دفعہ اردو کلاس کے بچوں کو ہالینڈ (Holland) کی سیر کروائی اس موقع حضور رحمہ اللہ بچوں کے ساتھ کس قدر محبت کا سلوک فرماتے اس سلسلہ میں مکرم بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں: حضور انور سب کے ساتھ پیار اور شفقت کا ایسا سلوک فرماتے کہ سب بچے ایسا محسوس کرتے کہ ہم اپنے والدین کے ساتھ ہی رہ رہے ہیں اور حضور انور سب کا حال اور خیر و عافیت پوچھتے۔اگر کوئی بیمار ہوتا تو اسے ہومیو پیتھی کی دوائی بھی دیتے اور پھر بار بار اس کی طبیعت کا پوچھتے۔حضور” سب بچوں کو اس پیار کے انداز سے ملتے اور ان پر نظر شفقت کرتے کہ شاید ان کے والدین بھی اتنا نہ کرتے ہوں۔“ (ماہنامہ خالد سیدنا طاہر نمبر 2004 صفحہ 250 ) حضرت خلیفة لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز: حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز احباب جماعت کے محبت و اخلاص کے اظہار کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: نہایت پیار سے میں عرض کر دیتا ہوں کہ مجھے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس پیاری جماعت سے بہت پیار ہے اور سختی یا نرمی کے مواقع اللہ تعالیٰ کے فضل سے اچھی طرح جانتا ہوں اور انشاء اللہ تعالیٰ اس کی دی ہوئی توفیق سے فیصلے کرنے کی کوشش کروں گا۔اللہ تعالیٰ اپنی رضا کے مطابق کام کرنے کی مجھے توفیق دے۔لیکن پھر یہ بڑے پیار سے عرض کر دوں کہ جو جماعت کے بہتر سمجھوں گا ضرور کہوں گا اور یہ کسی کو کہنے کی ضرورت نہیں کہ اس کی ضرورت تھی یا نہیں تھی۔جب کہہ دیا ہے تو جماعت کے مفاد میں ہو گا۔اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا، علیم ہے، قدرتوں کا مالک ہے، وہ آپ ہی میرے دل سے خیال نکال دے گا۔مجھے اس بارہ میں کسی کے اس تبصرہ کی ضرورت نہیں کہ کیوں کہا۔ہاں حالات سے باخبر رکھیں تاکہ تربیتی نقطہ نظر سے جہاں کہیں کچھ کہنے کی ضرورت ہو کہہ سکوں۔لیکن آخر میں پھر ایک وضاحت کردوں کہ اس بات کو ختم کریں، مزید خطوط میں ان کا ذکر نہ کریں۔ہاں اپنے اخلاص ، وفا اور پیار کا اظہار کریں۔اللہ تعالیٰ کی حمد کے گیت گائیں اور اسی کی حمد کرتے ہوئے، دعا کرتے ہوئے اس قافلے کو آگے بڑھاتے چلے جائیں۔“ (خطبات مسرور جلد نمبر 2003 ، صفحہ 22 ,23 ) حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: اب افریقہ (Africa) کے دورے میں گزشتہ سال کی طرح اس دفعہ بھی مختلف ملکوں میں جاکر میں نے احمدیوں کے اخلاص و وفا کے جو نظارے دیکھتے ہیں ان کی ایک تفصیل ہے۔بعض محسوس کئے جا سکتے ہیں، بیان نہیں کئے جا سکتے۔تنزانیہ (Tanzania) کے ایک دور دراز علاقے میں جہاں سڑکیں اتنی خراب ہیں کہ ایک شہر سے دوسرے شہر تک پہنچنے میں چھ سات سو کلومیٹر کا سفر بعض دفعہ آٹھ دس دن میں طے ہوتا ہے۔ہم اس علاقہ کے ایک نسبتاً بڑے قصبے میں جہاں چھوٹا سا ائر پورٹ ہے، چھوٹے جہاز کے ذریعے سے گئے تھے تو وہاں لوگ ارد گرد سے بھی ملنے کے لئے آئے ہوئے تھے۔ان میں جوش قابل دید تھا۔بہت جگہوں پر وہاں ایم اے کی سہولت بھی نہیں ہے اس لئے یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ ایم ٹی اے دیکھ کر اور تصویریں دیکھ کر یہ تعلق پیدا ہو گیا تھا۔یہ جوش بتاتا تھا کہ خلافت سے ان نیک عمل کرنے والوں کو ایک خاص پیار اور تعلق ہے۔جن سے مصافحے ہوئے ان کے جذبات کو بیان کرنا بھی میرے لئے مشکل ہے۔ایک مثال دیتا ہوں۔مصافحہ کے لئے لوگ لائن میں تھے ایک شخص نے ہاتھ بڑھایا اور ساتھ ہی جذبات سے مغلوب ہو کر رونا شروع کر دیا۔کیا یہ 377