مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 37
اللہ! اللہ کی قسم میں ہی زیادہ قصوروار ہوں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! اللہ نے مجھے تمہاری طرف مبعوث کیا اور تم نے کہا تو جھوٹا ہے اور ابو بکر نے کہا کہ سچا ہے اور انہوں نے اپنی جان و مال سے میرے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا تو کیا تم میرا ساتھی میرے لئے چھوڑو گے بھی یا نہیں؟ پھر اس کے بعد ابو بکر کو کبھی تکلیف نہیں دی گئی۔“ ( صحیح بخاری پارہ نمبر 14 صفحہ 168 تا170 کتاب المناقب باب مناقب مہاجرین اور ان کی فضیلت ، مترجم حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نظر میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا مقام : حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی عربی تصنیف سِرُّ الْخِلَافَةُ میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمَّا جُعِلَ أَبِي خَلِيفَةٌ وَ فَوَّضَ اللَّهُ إِلَيْهِ الْامَارَةَ فَرَأَى بِمُجَرَّدِ الْإِسْتِخْلَافِ تَمَوُّجَ الْفِتَنِ مِنْ كُلِّ الْأطْرَافِ وَ مَوْرَ الْمُتَنَبِيِّنَ الْكَاذِبِينَ وَ بَغَاوَةَ الْمُرْتَدِّيْنَ الْمُنَافِقِينَ۔فَصُبَّتْ عَلَيْهِ مَصَائِبُ لَوْ صُبَّتْ عَلَى الْجِبَالِ لَانُهَدَّتْ وَ سَقَطَتْ وَ انْكَسَرَتْ فِى الْحَالِ وَلَكِنَّهُ أعْطِيَ صَبْرًا كَالْمُرْسَلِينَ۔حَتَّى جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَ قُتِلَ الْمُتَنَبِّئُونَ وَ أهْلِكَ الْمُرْتَدُّونَ وَ أَزِيلَ الْفِتَنُ وَ دُفِعَ الْمَحْنُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ وَ اسْتَقَامَ أَمْرُ الْخِلَافَةِ وَ نَجَا اللهُ الْمُؤْمِنِينَ مِنَ الْافَةِ وَ بَدَّلَ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا۔۔۔۔فَانظُرُ كَيْفَ تَمَّ وَعْدُ الْخِلَافَةِ مَعَ جَمِيعِ لَوَازِمِهِ وَ اَمَارَاتِهِ فِي الصَّدِّيقِ وَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَشْرَحْ صَدْرَكَ لِهَذَا التَّحْقِيقِ وَتَدَبِّرُ كَيْفَ كَانَتْ حَالَةُ الْمُسْلِمِينَ فِي وَقْتِ اِسْتِخْلَافِه وَقَدْ كَانَ الْإِسْلَامُ مِنَ الْمَصَائِبِ كَالْحَرِيقِ ثُمَّ رَدَّ اللهُ الْكَرَّةَ عَلَى الْإِسْلَامِ وَ اَخْرَجَهُ مِنَ الْبِشِّرِ الْعَمِيقِ وَ قُتِلَ الْمُتَنَبِّئُونَ بِاشَدَّ الْأَلَامِ وَ أُهْلِكَ الْمُرْتَدُّونَ كَالاَنْعَامِ وَ امَنَ اللهُ الْمُؤْمِنِينَ مِنْ خَوْفٍ كَانُوا فِيهِ كَالْمَيِّتِيْنَ وَكَانَ الْمُؤْمِنُونَ يَسْتَبْشِرُونَ بَعْدَ رَفْعِ هَذَا الْعَذَابِ۔۔وَكَانُوا يَحْسَبُوْنَهُ مُبَارَكًا وَّ مُؤَيَّدًا كَالنَّبِيِّينَ وَكَانَ هَذَا كُلُّهُ مِنْ صِدْقِ الصِّدِّيقِ وَالْيَقِينِ الْعَمِيقِ وَ وَ اللَّهِ أَنَّهُ كَانَ ادَمُ الثَّانِي لِلْإِسْلَامِ وَالْمَظْهَرُ الاَوَّلُ لِأَنْوَارِ خَيْرِ الْأَنَامِ وَمَا كَانَ نَبِيًّا وَلَكِنْ كَانَتْ فِيْهِ قُوَى الْمُرْسَلِينَ فَبِصِدْقِهِ عَادَتْ حَدِيْقَةُ الْإِسْلَامِ إِلَى زُخْرُفِهِ التَّام ( سِرُّ الْخِلَافَةِ - روحانی خزائن جلد 8 صفحه 335 و 336) ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ جب میرے والد خلیفہ ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے امارت ان کے سپرد کی اس وقت انتخاب خلافت ہوتے ہی ہر طرف فتنہ و فساد موجزن ہو گیا اور جھوٹے مدعیان نبوت سر نکالنے لگے اور مرتد منافق لوگوں نے بغاوت کردی۔آپ یعنی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ پر ایسے مصائب ٹوٹے کہ اگر وہ کسی پہاڑ پر ٹوٹتے وہ فی الفور گر کر پاش پاش ہو جاتا لیکن آپ کو نبیوں والا صبر عطا کیا گیا۔پھر خدا تعالیٰ کی مدد آگئی جھوٹے نبی اور مرتد ہلاک ہو گئے، فتنے اور امتحان ٹال دیئے گئے اور خلافت استحکام پکڑ گئی اور اللہ نے مؤمنین کو نجات دے دی اور ان کے خوف کی حالت کو امن سے بدل دیا۔وعدہ خلافت اپنے تمام لوازمات اور علامات کے ساتھ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے وجود میں پورا ہوا۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس حقیقت کو قبول کر نے کے لیے آپ لوگوں کا سینہ کھولے۔غور کرو کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے خلیفہ مقرر ہونے پر مسلمانوں کی کیا حالت تھی؟ مومن اس تکلیف کے دُور ہونے کے بعد 37