مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 367
لکھتا ہے: اخبار الفضل محبت کی دیوانگی اور جنون میں از خود رفتہ ہو کر آنے والے مسافروں کے متعلق کا ”جو احباب یہ افواہ سن کر گھروں سے دیوانہ وار چل پڑے ان کا بیان ہے کہ شدت غم و الم سے از خود رفتہ ہو جانے کی وجہ سے انہیں یہ بھی معلوم نہ ہو سکا کہ ان کے ساتھ گاڑی میں کون لوگ بیٹھے ہیں اور وہ کس کس اسٹیشن سے گزر رہے ہیں۔وفور غم و اندوہ کی وجہ سے آنسو بھی نہ نکلتے تھے۔بس ایک بے ہوشی کا سا عالم تھا اور خود فراموشی کا ایک دریا تھا جس میں بہتے چلے جارہے تھے جب رستہ میں کسی نے اس خبر کے غلط ہونے کا ذکر کیا تو بے اختیار خوشی کے آنسو نکل آئے۔“ (سوانح فضل عمر جلد 5 صفحہ 522,521 ) 367