مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 365 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 365

پاؤں دبانے لگ جاتا ہے اور کہتا ہے حضور تھک گئے ہوں گے۔میں خیال کرتا ہوں کہ میں تو گھوڑے پر سوار آیا اور یہ گھوڑے کے ساتھ پیدل چلتا آیا مگر اس محبت کی وجہ سے جو اسے میرے ساتھ ہے اس کو یہ خیال ہی نہیں آتا کہ یہ تو گھوڑے پر سوار تھے یہ کس طرح تھکے ہوں گے۔وہ یہی سمجھتا ہے کہ گویا گھوڑے پر وہ سوار تھا اور پیدل میں چلتا آیا۔چنانچہ میرے اصرار کرنے کے باوجود کہ میں نہیں تھکا میں تو گھوڑے پر آرہا ہوں۔وہ یہی کہتا چلا جاتا ہے کہ نہیں حضور تھک گئے ہوں گے مجھے خدمت کا موقع دیا جائے اور پاؤں دبانے لگ (سوانح فضل عمر جلد 5 صفحہ 471 ) جاتا ہے۔66 حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ”خدا نے مجھے وہ تلواریں بخشی ہیں جو کفر کو ایک لحظہ میں کاٹ کر رکھ دیتی ہیں، خدا نے مجھے وہ دل بخشے ہیں جو میری آواز پر ہر قربانی کرنے کے لئے تیار ہیں۔میں انہیں سمندر کی گہرائیوں میں چھلانگ لگانے کے لئے کہوں تو وہ سمندر میں چھلانگ لگانے کے لئے تیار ہیں۔میں انہیں پہاڑوں کی چوٹیوں سے اپنے آپ کو گرانے کے لئے کہوں تو وہ پہاڑوں کی چوٹیوں سے اپنے آپ کو گرا دیں، میں انہیں جلتے ہوئے تنوروں میں کود جانے کا حکم دوں تو وہ جلتے تنوروں میں کود کر دکھا دیں۔اگر خودکشی حرام نہ ہوتی، اگر خود کشی اسلام میں ناجائز ہوتی تو میں اس وقت تمہیں یہ نمونہ دکھا سکتا تھا کہ جماعت کے سو آدمیوں کو میں اپنے پیٹ میں خنجر مار کر ہلاک ہو جانے کا حکم دیتا اور وہ سو آدمی اسی وقت اپنے پیٹ میں خنجر مار کر مر جاتا۔“ میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں انوار العلوم جلد 17 صفحہ 241 و 242 ) دو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالٰی عنہ جب سفر یورپ کے لئے روانہ ہوئے تو راستے میں احباب جماعت کی عقیدت و محبت کے بے نظیر نمونے ظاہر ہوئے چنانچہ شیخ یعقوب علی عرفانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بٹالہ اسٹیشن پر گاڑی آچکی تھی جب حضور کی موٹر سٹیشن پر آئی۔دیر سے پہنچنے کی وجہ ایک تو بِشُرُ الدُّعا پر لوگوں کے مصافحہ کرنے میں بہت وقت صرف ہوا۔پونے دس کے قریب وہاں سے روانہ ہوئے تھے پھر راستہ میں موٹر اپنی معمولی امراض میں مبتلا ہوتے رہے اور حضرت اگر کچھ آگے نکل جاتے تو ٹھہر کر دوسری موٹر کا انتظار فرماتے باوجود یکہ وقت تنگ ہو رہا تھا اور خدام سفر گھبرا رہے تھے کہ مبادا ٹرین نکل جاوے مگر حضرت کے چہرہ پر اطمینان اور مستقل مزاجی کی رو دوڑتی نظر آتی تھی۔باوجودیکہ موٹر دیر سے پہنچے اور گاڑی بھی آچکی تھی لیکن آپ اسی اطمینان سے اترے اور احباب سے مصافحہ کرنے میں مصروف ہو گئے۔بٹالہ اسٹیشن پر احباب و خدام اور دوسرے لوگوں کا اس قدر مجمع ہو گیا تھا کہ جماعت بٹالہ نے باوجود ایک فوٹو کا انتظام کیا ہوا تھا مگر اس میں کامیابی نہ ہو سکی جس طرح سمندر میں موج اٹھتی ہے اسی طرح انسانوں کی یہ متحرک موج ایک عجیب منظر پیش کرتی تھی۔چونکہ بٹالہ باب القادیان ہے اس لئے قادیان کے اکثر احباب بھی مشایعت کے لئے یہاں آئے اور بعض ان میں سے سہارنپور تک پہنچے گاڑی کی روانگی کا نظارہ قابل دید تھا سینکڑوں آدمی پائدانوں پر کھڑے تھے اور سینکڑوں کی تعداد میں گاڑی کے ساتھ دوڑتے تھے اور اپنی انتہائی کوشش سے ایسی مسابقت کرنا چاہتے تھے کہ اس سے آگے نکل کر اپنے آقا کے پاس پہنچ جاویں اور مصافحہ کر لیں۔دراصل نفسیات کا یہ ستر ہے کہ جب کسی چیز کی محبت غالب آجاتی ہے تو اس کے لئے انسان ہر قسم کی قربانی حتی کہ اپنی جان کو بھی قربان کر دینا آسان سمجھتا ہے۔ان دوستوں کے جذبات محبت و اخلاص اور ہر اس جان میں ایک جنگ ہو رہی تھی۔اگر خدانخواستہ پاؤں پھسل گیا یا دھکا لگا تو کیا نتیجہ ہو گا ذرا 365