مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 361
حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ : حضرت خلیفہ المسح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ 18 نومبر 1910ء بروز جمعہ حضرت نواب محمد علی خاں صاحب رضی اللہ عنہ کی کوٹھی سے واپس آتے ہوئے گھوڑے سے گرنے کے نتیجہ میں زخمی ہو گئے۔حضرت خلیفۃ امسیح الاوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھوڑے سے گرنے کا واقعہ پوری جماعت کے لئے ایک دل ہلا دینے والا حادثہ تھا جس نے سب ہی کو تڑپا دیا اور جوں جوں دوستوں کی یہ خبر پہنچی وہ دیوانہ وار اپنے محبوب آقا کی عیادت کے لئے کھنچے چلے آئے بیمار پرسی کے لئے ہر طرف سے بکثرت خطوط پہنچنے لگے اور جماعت کے چھوٹے بڑے سب دعاؤں میں مصروف ہو گئے اور جماعتی رنگ میں بھی دعائے خاص کی مسلسل تحریکیں ہونے لگیں۔کئی دوستوں نے اصرار کیا کہ مرکز سے روزانہ بذریعہ کارڈ ان کو اطلاع دی جائے۔چنانچہ اس کا اہتمام بھی کیا گیا۔غرضیکہ مخلصین جماعت نے خلیفہ وقت سے اس موقع پر جس فدائیت و شیدائیت کا مظاہرہ کیا وہ اپنی مثال آپ تھا۔حکیم محمد حسین صاحب قریشی نے ایک روز جناب باری میں عرض کی: ”کہ اے مولیٰ ! حضرت نوح علیہ السلام کی زندگی کی ضرورتیں تو مخص المقام تھیں اور اب تو ضرورتیں جو درپیش ہیں ان کو بس تو ہی جانتا ہے۔ہماری دعا قبول کر اور ہمارے امام کو نوح علیہ السلام کی سی عمر عطا کرے صاحب ' محمد حسین صاحب (لائل پور) نے دعا کی کہ حضرت صاحب کی بیماری مجھ کو آجائے۔اسی طرح سید ارادت حسین مونگھیری نے اپنی دعا میں جناب باری سے التجا کی میری عمر دو سال کم ہو کر حضرت صاحب کو مل جائے ان دعاؤں کے علاوہ دوستوں نے صدقہ و خیرات بھی کثرت سے کیا۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے ایک دفعہ خوشنودی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ” یہ خوشی کی بات ہے کہ بیماری کے ایام میں جماعت اللہ کی طرف متوجہ ہے۔“ اس موقع پر احمدی ڈاکٹروں نے بھی علاج معالجہ میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جس پر حضرت نے خاص طور پر ادا کیا۔فرمایا کہ : 66 شکریہ تاریخ احمدیت جلد 3 صفحه 330 331 ) حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کا جماعت احمدیہ کو پیغام: 29 نومبر 1910ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ نے ضعف کے باوجود جماعت کو ایک پیغام دیا جس میں ارشاد مجھ پر جو ابتلا اس وقت آیا ہے۔یہ میرے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بڑی بڑی غریب نوازیوں، رحمتوں اور فضلوں کا نمونہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے بہت سے دلوں کی حالت کو جن کے ساتھ محبت میرے لئے ضروری تھی مجھ بہ ظاہر فرما دیا۔بعض ایسے نفوس ہیں جن کی مجھے خبر نہ تھی کہ وہ میرے ساتھ اور جماعت کے ساتھ محبت کا کیا تعلق رکھتے ہیں لیکن اس بیماری میں جو خدمت رات دن انہوں نے کی ہے اس سے ان کے اخلاص کا اظہار اور اللہ تعالیٰ نے ان نفوس کے صفات کو ظاہر کر دیا۔یہ خدا تعالیٰ کی غریب نوازی ہے کہ وہ لوگ دل ہے سے ایسی خدمت کر رہے ہیں۔میں ان تمام لوگوں کا جنہوں نے اس وقت میری ہمدردی کی ہے شکر گزار ہوا ہوں۔66 (حیات نور صفحہ 480 ) 361