مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 355
میں نہیں جانتا کہ ایسا کیوں ہوا اللہ تعالیٰ نے مجھ سے ایسا کروایا کہ میں نے ان کو جواب لکھا کہ آر نصیب ہو گا اور بہت ہی خوبصورت اور عمر پانے والا بچہ ہو گا۔جب حمل ہوا بیوی کو تو ڈاکٹروں نے یہ کہا کہ نہ صرف بچہ مر جائے گا بلکہ بیوی کو بھی لے مرے گا۔بچہ ایسی حالت میں ہے کہ تمہاری بیوی کی جان کو خطرہ ہے اس لئے تم اس حمل کو ضائع کرا دو۔اس نے کہا کہ ہر گز نہیں مجھے جماعت احمدیہ کے امام کا خط آیا ہے نہ میری بیوی کو کوئی نقصان پہنچے گا نہ میرے بچے کو کوئی نقصان پہنچے گا۔پھر وہ ہر ہفتے آ کر دعا کی یاد دھانی کروا جاتے تھے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو نہایت ہی خوبصورت صحت مند بچہ عطا بچہ عطا فرمایا اور ان کی بیگم ور ان کی بیگم صاحبہ بھی بالکل ٹھیک ٹھاک رہیں کوئی ان کو تکلیف نہ ہوئی مجھے یاد ہے ان کی جو تار یہاں آئی تھی انہوں نے لکھا تھا کہ God has blessed me with a bounding son اس کا مطلب ہے۔کہ خدا نے اچھلتا کودتا قوت کے ساتھ چھلانگیں لگاتا ہوا بچہ پیدا فرمایا ہے۔چنانچہ ان کی خواہش تھی کہ میرے ہاتھ پر بیعت کریں اس لئے وہ دیر کرتے رہے۔“ دو یہ جرمن نوجوان ضرور جیتے گا: (ضمیمہ ماہنامہ خالد ربوہ اگست 1988ء) جرمنی میں ایک سوال و جواب کی مجلس کے دوران حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں لنڈن ٹی وی پر جرمن کھلاڑی کو کھیلتے ہوئے دیکھ رہا تھا وہ کھیل رہا تھا تو میں نے دعا کی کہ اے خدا اسے جیت عطا فرما میں نے اسی وقت اپنے گھر والوں کو کہہ دیا کہ یہ جرمن نوجوان ضرور جیتے گا کیونکہ مجھے قبولیت دعا کا یقین ہو گیا تھا۔چنانچہ خدا کے فضل سے یہ جرمن کھلاڑی جیت گیا۔آپ لوگ شاید دعا کی حقیقت کو پوری طرح نہ سمجھ سکیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ یہ قبولیت دعا کا معجزہ تھا۔اور اس سے میری جرمن قوم کے ساتھ دلی وابستگی کا پتہ چلتا ہے کیونکہ یہ وہ قوم ہے جس نے ہمارے نوجوانوں کے ساتھ احسان کا سلوک کیا ہے۔66 دعائے مستجاب کا چمکتا ہوا نشان: (ضمیمہ ماہنامہ انصار اللہ ربوہ دسمبر 1985ء) ملک مکرم عبدالسمیع نون صاحب آف سرگودھا حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی کی قبولیت دعا کا معجزانہ اور حیرت انگیز واقعہ بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہیں: ومن ہائیم جرمنی (Mon Heim Germani) میں 2001ء کی ایک صبح نہیں بھولتی جب میں عزیزم نادرحسین کو غنڈوں نے 50 لاکھ روپے تاوان کے لئے جبراً اغوا کیا تھا۔سات رات اور دن آنکھیں باندھ کر نامعلوم مقام پر انہیں رکھا گیا۔مجھے اسی رات فون پر اطلاع مل گئی تو اپنی آہ و زاری کے ساتھ سیدنا حضور (حضرت خلیفۃ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ) کا در کھٹکھٹایا جو قیامت کھوکھر غرنی پر گزر گئی اس کا احوال بتا بتا کر کہ حضور (حضرت خلیفة امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ سے دعائے مضطربانہ کی بار بار درخواست کی حتی کہ ایک دن میں دو دو بارفیکس بھی دیئے۔حضور (حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ) نے بہت کرم فرمایا، بہت دعا کی بہت الجھا ہوا مسئلہ آناً فاناً حل ہو گیا۔یہ حضور (حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی) کی موروثی صفت تھی۔بیگما 355